دعا کو بازیاب اور ظہیر کو فوراً گرفتار کرنے کا حکم۔۔ اقرار الحسن کی مدد سے دعا زہرا اپنے والدین سے ملنے سے کتنا قریب ہے؟ دیکھیئے ویڈیو

image

رواں سال کا سب سے پیچیدہ کیس جو کہ دعا زہرا کے اغواء ہونے کے معاملے کا سامنا آیا اس میں کافی سارے ہوشربا انکشافات دیکھنے کو ملے۔ عدالت کی کارراوائیاں ہوئیں، دعا کی میڈیکل رپورٹس پیش کی گئیں جیسے جیسے وقت گزرتا گیا یہ کیس بھی مہدی علی کاظمی کے حق میں آنا شروع ہوا۔ مزید یہ کہ جب اقرار الحسن کا دعا زہرا کیس سے متعلق پہلا ویلاگ سامنے آیا جس میں انہوں نے حیران کن انکشافات سے پردہ اٹھایا تب سے اِس کیس کو سلجھانے میں پولیس نے اپنا بھرپور کردار نبھایا۔ آج دعا زہرا کے وکیل جبران ناصر یہ کہہ رہے ہیں ظہیر ایک ملزم ہے اور اس نے دعا کو اغواء کیا جسے کسی بھی وقت گرفتار کرلیا جائے گا۔

پاکستان کے معروف اینکر اور تفتیشی رپورٹر سید اقرار الحسن نے اپنا نیا ویلاگ یوٹیوب پر اپ لوڈ کیا جس میں انہوں نے واضح طور پر یہ کہا ہے کہ پولیس جلد ظہیر اور اس کے گینگ کو گرفتار کر کے دعا کو بازیاب کروا کر اس کے والدین کے پاس پہنچا دے گی۔

اقرار الحسن نے کہا کہ اللہ کی ذات جب کسی کے لیے راستے کھولنا چاہتی ہے تو آپ کو وسیلہ اور ذریعہ بنا دیتی ہے۔ اینکر پرسن کا یہ کہنا تھا کہ ہماری خواہش یہ تھی کہ اس عید پر ہم دعا زہرا کو ان کے والدین سے ملوا سکیں۔ اس حوالے سے اقرار الحسن نے کہا میں نے دعا کے والدین سے رابطہ کیا اور ظہیر اور اس کے گینگ سے بھی رابطہ کیا کہ بیٹی اور ماں باپ کی ملاقات کروا دیتے ہیں اور تمام تر سیکیورٹی کی ذمہ دار ہم اپنے ذمہ لیں گے مگر انہوں نے خود اس ملاقات سے اور مجھے انٹرویو دینے سے انکار کردیا۔

سید اقرار الحسن نے کہا کہ ہمارے اس کیس پر پہلی بار بات کرنے کےصرف چار دن بعد پولیس نے اسی کیس پر مزید کام کرتے ہوئے اپنی پراگریس رپورٹ میں اس بات کا انکشاف کیا کہ ظہیر اس دن کراچی میں ہی موجود تھا جب دعا زہرا اپنے گھر سے نکلی تھی۔

اقرار الحسن نے بتایا کہ جب دعا لاہور جانے کے لیے گھر سے نکلی تھی تب اس کے پاس کوئی سم یا موبائل موجود نہیں تھا تو یہ سب جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت پیش آئی، کہ دعا اپنی مرزی سے اس شادی کے لیے بھاگی ہے۔

مزید انہوں نے اپنی ویڈیو میں کیا کہا ضرور دیکھئے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US