پاکستان کے سابق سفیر شوکت مقدم کی بیٹی نور مقدم کے قتل کو آج ایک سال مکمل ہوگیا ہے، گزشتہ برس 20 جولائی کو تھانہ کوہسار کی حدود ایف سیون فور میں 27 سالہ نور مقدم کوتیز دھار آلے سے سفاکی سے قتل کیا گیا۔
گزشتہ سال عید الاضحی سے ایک روز قبل 20 جولائی کو سابق سفیر شوکت مقدم کی 27 سالہ بیٹی نور مقدم اسلام آباد میں ایک رہائش گاہ پر مردہ حالت میں پائی گئی تھی۔ پولیس کا کہنا تھا کہ نور مقدم کو گولی مارنے کے بعد ذبح کیا گیا۔ پولیس نے معروف کاروباری شخص کے بیٹے ظاہر ذاکر جعفر کو قتل میں ملوث ہونے پر گرفتار کیا۔
عدالت نے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کو سزائے موت کا حکم سنا دیا جبکہ والدین کو بری کر دیا گیا۔ عدالت نے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کو سزائے موت جبکہ ان کے گھر کے چوکیدار افتخار اور مالی جان محمد کو 10، 10 سال کی سزا سنائی۔ کیس میں مجموعی طور پر 12 ملزمان شامل تفتیش رہے جن میں سے 4 ملزمان یعنی مرکزی ملزم ظاہر جعفر، اُن کے والد ذاکر جعفر، سیکیورٹی گارڈ افتخار اور مالی جان محمد زیرِ حراست رہے۔ملزمان پر 14 اکتوبر 2021 کو فرد جرم عائد کی گئی تھی اور مقدمے کا فیصلہ فرد جرم عائد ہونے کے لگ بھگ 17 ہفتے بعد سنایا گیا۔
برسی کے موقع پر نور مقدم کی والدہ کا کہنا ہے کہ ہم راتوں کو سو نہیں سکے، ہمیں دن کو سکون نہیں ملا لیکن میں آج سب ماؤں بہنوں سے اپیل کرتی ہوں کہ آپ سب آج 20 جولائی کو ایف نائن پارک آکر میرا اور اپنا ساتھ دیں کیونکہ میں نہیں چاہتی کہ جس طرح میری نور کے ساتھ ہوا، وہی سب مستقبل میں کسی اور کی نور کے ساتھ ہو، ہمیں اپنی بچیوں کی حفاظت کے لیے کھڑا ہونا ہوگا لہٰذا میرا ساتھ دیں۔
نور مقدم کے والد شوکت مقدم کا کہنا ہے کہ مجرم کو سزاء ملنے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے، اگر طاقتور مجرم کی سزاء پر عملدرآمد نہ ہوا تو بااثر لوگ کسی کا بھی قتل کرتے رہیں گے اس لئے ظاہر جعفر کی سزاء پر عمل بہت ضروری ہے۔
دوسری جانب مجرم ظاہر جعفر نے اپنی سزائے موت جبکہ افتخار اور جان محمد نے اپنی 10،10 سال قید کی سزاؤں کیخلاف اپیلیں دائر کر رکھی ہیں۔جس پر 14 ستمبر کو سماعت ہوگی۔جسٹس عامر فاروق اور جسٹس ارباب محمد طاہر پر مشتمل بینچ کیس کی سماعت کرے گا ۔ سنجیدہ حلقوں کا کہنا ہے کہ ظاہر جعفر کی سزاء پر عملدرآمد بہت ضروری ہے تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ اس لرزہ خیز واردات کے مجرم کے حوالے سے کیا فیصلہ کرتی ہے۔