وفاقی حکومت نے انٹیلی جنس بیورو کے سابق سربراہ آفتاب سلطان کو قومی احتساب بیورو کانیا چیئرمین بنانے کی منظوری دے دی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں کابینہ نے سابق ڈی جی آئی بی آفتاب سلطان کی بحیثیت چیئرمین نیب تعیناتی کیلئے منظوری دے دی۔
آفتاب سلطان دیانتدار افسر کے طور پر جانے جاتے ہیں، آفتاب سلطان آئی جی پنجاب اور نیشنل پولیس اکیڈمی کے کمانڈنٹ بھی رہ چکے ہیں۔چیئرمین نیب کیلئے ان کا نام پیپلز پارٹی نے تجویز کیا تھا۔
آفتاب سلطان کے والد اور ساس دو دو مرتبہ رکن قومی اسمبلی رہ چکے ہیں۔ آفتاب سلطان کا تعلق فیصل آباد سے ہے۔ انہوں نے پولیس میں اپنے کیریئر کاآغاز 1977ءمیں بطور اے ایس پی پنجاب پولیس کیا تھا۔
واضح رہے کہ سابق سربراہ نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کو چار سال کی مدت پوری ہونے کے بعد گزشتہ برس 6اکتوبر کو اپنے عہدے سے ریٹائر ہونا تھا لیکن اس دوران سابق حکمراں جماعت نے دو صدارتی آرڈیننس جاری کیے جس کی وجہ وہ 2 جون 2022تک چیئرمین کے عہدے پر براجمان رہے۔
صدارتی آرڈیننس کی میعاد ختم ہونے کے بعد ظاہر شاہ قائمقام چیئرمین مقرر کیا گیا تھا جبکہ آج کابینہ نے آفتاب سلطان کو چیئرمین نیب بنانے کی منظوری دیدی ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا ملک میں احتساب کا عمل آگے بڑھے گا یا نیب کو صرف مخالفین کو دھمکانے کیلئے استعمال کیا جائیگا۔