آپ نے کبھی نہ کبھی جڑواں بچوں کو دیکھا ہوگا جن میں زیادہ امکان یہی ہوتا ہے کہ وہ دیکھنے میں ہوبہو ایک جیسے ہوتے ہیں۔ کچھ مشہور شخصیات بھی ایسی ہیں جو اپنے جڑواں بہن یا بھائی جیسی دکھتی ہیں۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیوں زیادہ تر جڑواں بچے ایک جیسے دکھتے ہیں؟ آئیے جانتے ہیں اس آرٹیکل میں
جڑواں بچوں کا ایک جیسا چہرہ
جڑواں بچے اس وقت بننا شروع ہوتے ہیں جب ایک زرخیز انڈا (زائیگوٹ) دو حصوں میں تقسیم ہو کر الگ الگ نشونما پانا شروع کرتا ہے۔ دونوں کا ڈی این اے ایک ہی ہوتا ہے اور ڈی این ہی ہمارے بالوں کے رنگ سے لے کر جسم کے تمام حصوں کی خصوصیات طے کرتا ہے۔ ایک ڈی این اے ہونے کی وجہ سے جڑواں بچوں کی شکل اور جسامت ایک جیسی ہوتی ہے۔
بڑے ہو کر مختلف کیوں لگتے ہیں؟
بچپن میں ایک جیسے دکھنے والے جڑواں بچے اکثر بڑے ہو کر مختلف لگنے لگتے ہیں اس کی وجہ بھی جینیاتی تبدیلیاں ہیں جو مختلف طرزِ زندگی اور کھانے پینے کی عادات کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں اور بڑے ہوتے ہوتے اکثر جڑواں بچوں میں کسی حد تک تبدیلی دکھائی دینے لگتی ہے۔
آج کل جڑواں بچوں کی تعداد کیوں بڑھ رہی ہے؟
شاید آپ نے محسوس کیا ہو آج کل جڑواں بچوں کی تعداد بڑھ رہی ہے تو ان کی وجہ وہ دوائیں ہیں جو خاتون میں حاملہ ہونے کی صلاحیت بڑھانے میں مدد کرتی ہیں اس کے علاوہ یہ ایک سے زیادہ بچے کی پیدائش کے امکان کو بھی بڑھا دیتی ہیں۔