ہستا بستا گھر اچانک ایک ہوا کے جھونکے میں اجڑ جائے تو نہ کھانا اچھا لگتا نہ پینا۔ اولاد کا غم یقیناً سب سے زیادہ بڑا اور تکلیف دہ ہے۔ کراچی کے علاقے شادمان ٹاؤن کے رہائشی دانش کا خوشحال گھرانہ اچانک ماتم کدہ بن گیا۔ دانش اپنے 2 بچوں کو بیوی کے ہمراہ بائیک پر لے جا رہا تھا کہ بارش کے بعد پانی کا بہاؤ اتنا زیادہ تھا کہ نالا اور سڑک نظر نہ آئی اور وہ نالے میں جا گرے۔ دانش تو بچ گئے مگر ان کی بیوی مر گئی اور ایک بچہ بہہ گیا۔ بیوی کی میت کو تو دفنا دیا مگر دانش آج 5 روز گزرنے کے بعد بھی اپنے 2 ماہ کے بچے کی لاش کو حاصل کرنے کے لیے تگ و دو میں لگا ہوا ہے۔
سماجی کارکن ظفر عباس نے دانش سے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ دانش جب اپنی بیوی کو دفنانے کے لیے قبرستان گیا تو اچانک اسے فون آیا کہ ایک بچہ ملا
ہے وہ آپ کا ہی ہے آ کر دیکھ لیں، اس نے جلدی جلدی تمام انتظامات کیے اور جب ہسپتال پہنچا تو پتہ چلا وہ بچہ اس کا تھا ہی نہیں۔ دانش نے 5 دن سے کچھ نہ کھایا اور نہ پیا بس اس کی حکامِ بالا سے یہی التجا ہے کہ میرے بچے کی کم سے کم لاش تو نکال دو ، میں اسے اپنے ہاتھوں سے دفنا تو دوں ۔۔
خُدا کے واسطے مجھے میرا بچہ دے دو، مجھے راتوں میں سکون نہیں آتا، میرے بچے نے تو ابھی دنیا میں کچھ کیا ہی نہیں تھا اتنا چھوٹا تھا مجھے میرا بچہ صرف دفنانے کے لیے دے دو، میری اذیت کو کوئی سمجھ لے ۔۔ میں مستری کا کام کرتا ہوں دن میں 800 اور 900 روپے کماتا ہوں میں کسی سے کچھ نہیں مانگ رہا خدا کے واسطے میرا بچہ ڈھونڈ دو۔
میں جس حکومتی شخص سے بات کر رہا ہوں وہ مجھے کوئی جواب نہیں دے رہے ہر کوئی یہی کہہ رہا ہے کہ ابھی الیکشن کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔