100 سال پرانا قبرستان جہاں مرنے والوں کی تصویر لگائی جاتی ہے ۔۔ چالیس سال سے اس قبرستان میں کام کرنے والے گورکن نے کیا انکشافات کیے؟

image

قبرستان میں موجود قبروں پر لوگوں کی جانب سے اپنے پیاروں کی قبروں کا پکا کروایا جاتا ہے، ان پر پھول نچھاور کیے جاتے ہیں اور کنارے پر چھوٹا سا پودالگا دیا جاتا ہے تاکہ جب وہ بڑا ہوکر درخت بن جائے تو قبر کو سایہ مل سکے۔ اس کے علاوہ فوت ہوجانے والے انسان کے لیے فاتحہ خوانی کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

لیکن جس انوکھے قبرستان کے بارے میں آج آپ کو بتانے جا رہے ہیں وہاں اپنے پیاروں کی یاد میں نہ تو پودا لگایا جاتا ہے نہ پھولوں کی پتیاں ڈالی جاتی ہیں بلکہ پیاروں کی یاد میں قبر کی تختی پر مرحوم کی تصویر لگائی جاتی ہے۔ یہ ایک واقعی دلچسپ اور حیران کن بات ہے۔

یہ قبرستان عیسائی مذہب کے ماننے والوں کا ہے جسے گورا قبرستان کہا جاتا ہے۔ یہ قبرستان فیصل آباد میں موجود ہے جہاں پر کام کرنے والے گورکن نے انکشافات کیے ہیں۔

فیصل آباد قبرستان کے گورکن طفیل بتاتے ہیں کہ 1947 سے اس قبرستان کی دیکھ بھال کر رہے ہیں پہلے میرے والد یہاں کام کرتے تھ ان کے فوت ہونے کے بعد پھر میں نے یہاں کی ذمہ داری سنبھالی۔

گورکن کے مطابق یہ قبرستان 1902 سے قائم ہے ۔ طفیل نے ڈیجیٹل پاکستان کے ویب چینل کو انٹرویو میں بتایا کہ یہاں 200 قبریں موجود ہوں گی۔ انہوں نے بتایا کہ یہاں غریب افراد تدفین کے لیے نہیں آتے بلکہ امیر افراد آتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں گورکن نے بتایا کہ قبروں پر تصویریں اس لیے لگاتے ہیں کہ ایک اسپتال ہے وہاں کی سسٹر (Sister) خدمت کرتی تھیں تو انہوں نے یہاں تصویریں لگوائی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس قبرستان میں پہلی قبر ایک بچے کی تھی۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US