پاکستان میں مہنگائی کی وجہ سے پی ٹی آئی کو بے خل کرکے اقتدار سنبھالنے والی پی ڈی ایم ملک میں مہنگائی کے سیلاب کو روکنے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے اور اس وقت پاکستان سری لنکا کے بعد ایشیاء کا دوسرا مہنگا ترین ملک بن چکا ہے۔
سری لنکا میں بدترین معاشی اور سیاسی بحران انتہا پر پہنچ چکا ہے ، پیٹرول سے لے کر چائے پتی تک ملک میں کچھ بھی دستیاب نہیں ہیں یہ ایک بدترین بحران ہے اس نے سری لنکا کو دنیا کا سب سے مہنگا ملک بنا دیا ہے اور اب ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کو ایشیا کا دوسرا مہنگا ترین ملک قرار دیتے ہوئے کہا ہے مہنگائی کی شرح اگلے سال بھی بلند رہنے کا امکان ہے۔
ایشیائی ترقیاتی بینک کی معاشی آؤٹ لک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں پچھلے چھ ماہ میں سری لنکا کے بعد خطے کے دیگر ممالک کی نسبت مہنگائی میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان میں مہنگائی 12 فیصد سے بڑھ کر 21 فیصد، سری لنکا میں 14 فیصد سے 45 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق رواں سال پاکستان میں معاشی شرح نمو معتدل جبکہ مہنگائی کی شرح بلند رہنے کا امکان ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کا کہنا ہے کہ پاکستان میں مہنگائی کی وجہ آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی کے لیے اقدامات اور تیل و خوراک کی عالمی قیمتوں میں اضافہ ہے، اگلے سال پاکستان میں معاشی شرح نمو میں بہتری کی امید ہے۔
اے ڈی بی کی ترقی پذیر ایشیائی ممالک سے متعلق اکنامک آؤٹ لک رپورٹ کے مطابق روس یوکرین جنگ کے باعث خطے کی شرح نمو 5.2 کے بجائے 4.6 فیصد تک محدود رہے گی۔
پاکستان میں بھی اس سال جی ڈی پی گروتھ معتدل رہے گی۔ پاکستان میں مہنگائی کی وجوہات میں بجلی کے نرخوں میں اضافہ اور تیل و بجلی پر سبسڈی واپس لینا شامل ہے، جبکہ توانائی اور خوراک کی عالمی قیمتوں کی وجہ سے بھی مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق آئندہ مالی سال پاکستان کی معاشی ترقی کی رفتار میں قدرے بہتری آئے گی۔ بیرونی اور مالیاتی عدم توازن پر قابو پانے کے لیے سخت اقدامات کرنا ہوں گے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں سری لنکا کے بعد مہنگائی کی شرح خطے میں سب سے زیادہ ہے۔ گزشتہ چھ ماہ میں پاکستان میں مہنگائی 12 فیصد سے بڑھ 21 فیصد ہوگئی۔
اس دوران سری لنکا میں مہنگائی 14 فیصد سے بڑھ کر 45 فیصد، بھارت میں 5.7 سے بڑھ کر 7 فیصد جبکہ بنگلہ دیش میں6.1 سے بڑھ کر 7.4 فیصد ہوئی ہے۔ اسی عرصے میں چین میں مہنگائی 1.5 سے بڑھ 2.5 فیصد ہوگئی۔ علاوہ ازیں گزشتہ چھ ماہ میں پاکستان میں شرح منافع 5.25 فیصد بڑھا ہے۔