کسی بھی ملک میں ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کرنے کے لئے آپ کو ہوائی جہاز یا ٹرین یا بس یا گاڑی سے سفر کرنا پڑتا ہے۔ اگر سفر کسی دور دراز شہر یا کسی دوسرے ملک کا ہو تواس کے لئے جگہ جگہ آپ کو سیکیورٹی چیک پوسٹ سے بھی گزرنا پڑتا ہے۔ ہوائی جہاز کا سفر ہو تو ائیرپورٹ پر آپ کو سیکیورٹی چیک پوسٹ سے گزرتے ہوئےکن مراحل کا سامنا کرنا پڑتا ہے ان میں سے کچھ سے واقف ہوں گے اور کچھ سےآپ واقف نہیں ہوں گے۔ ایک تو چیکنگ وہ ہوتی ہے جو کہ سامنے سے ہوتی ہے جس میں آپ کو میٹل ڈیٹیکٹر کے ذریعے یا فزیکل چیکنگ کر کے آگے بڑھا دیا جاتا ہے لیکن اس میں کچھ خفیہ طریقے بھی ہیں جن سے آپ واقف نہیں ہوں گے ۔ ہم آپکو یہاں ان میں سے 5 طریقوں کے بارے میں بتائیں گے جو آپ کی سیکیورٹی چیکنگ کے وقت استعمال کئے جاتے ہیں۔ اور جن کی آپ کو خبر نہیں ہوتی۔ اس سے صرف ائیر پورٹ کا عملہ واقف ہوتا ہے کہ یہ خفیہ سیکیورٹی کہاں اور کیسے کام کر رہی ہے۔
1۔ اسکینر کے ذریعے دیکھا جاتا ہے:
جب آپ جہاز میں بیٹھنے جا رہے ہوتے ہیں تووہاں کا سیکیورٹی کا عملہ آپ کی جامہ تلاشی بھی لیتا ہے اور میٹل ڈیٹیکٹر بھی جسم پر پھیرتا ہے تاکہ اگر آپ کے پاس کوئی خفیہ ہتھیار یا ایسی چیز موجود ہے جو جہاز میں ممنوع ہے تو اس کی نشاندہی ہوجائے۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا کے ہر بڑے ائیرپورٹ پر ایسے اسکینر نصب ہوتے ہیں کہ جہاں سے آپ کو ہاتھ اٹھا کر گزرنا ہوتا ہے، ان اسکینر پر آپ کو کپڑوں کے پیچھے بھی دیکھا جاتا ہے کہ جسم کے ساتھ کوئی خفیہ، مہلک یا ممنوع چیز تو لے کر نہیں جا رہے۔ آپ اسکینر سے گزرتےہیں تو مونیٹر پر آپ کی پوری اسکریننگ ہو جاتی ہے۔ جس سے آپ کی جسمانی صورتحال پتہ چل جاتی ہے۔ کہ آپ نے کچھ چھپایا ہوا تو نہیں ہے۔
2۔ آپ کی حرکات وسکنات کا جائزہ لیا جاتا ہے:
دنیا کے ہر بڑے ائیرپورٹ پر خاص طور پر ایسا عملہ تعینات ہوتا ہے جو کہ لوگوں کی حرکات وسکنات کا جائزہ لے رہا ہوتا ہے۔ ان کے رویے، ان کی باڈی لینگویج یا ان کی گفتگو کو مانیٹر کرتا ہے۔ان کو پروفائیلرز کہا جاتا ہے۔ اگر کوئی شخص اپنی حرکتوں سے نروس دکھائی دے رہا ہے یا بار بار پانی پی رہا ہے، اِدھر اُدھر دیکھ رہا ہے، یعنی مشکوک حرکتیں کر رہا ہے تو ایسے شخص پر خصوصی نظر رکھی جاتی ہے یا مزید تفتیش کی جاتی ہے۔ اور پھر یہ سوال پوچھا جاتا ہے کہ آپ کے یہاں آنے کا کیا مقصد ہے۔
3۔ خاص کیمرے نصب ہوتے ہیں:
بڑے بڑے ائیر پورٹس پر ایسے خاص اور خفیہ کیمرے نصب ہوتے ہیں جو کہ اس بات کا پتہ لگاتے ہیں کہ کوئی شخص نشے میں تو نہیں ہے، اگر کسی پر شک ہو تو اس کی تصویر کمپیوٹر کو ارسال کر دی جاتی ہے اور کمپیوٹر اس کا ائزہ لے کر بتاتا ہے کہ یہ شخص کسی نشے میں ہے یا کسی اگریشن میں ہے یا کسی ڈپریشن میں ہے۔ اگر ایسا کچھ پتہ چلے تو اس کو روک لیا جاتا ہے اور مزید تفتیش کی جاتی ہے۔
4۔ کتوں کے ذریعے چیکنگ:
جب آپ ائیرپورٹ پر اپنا سامان بک کروادیتے ہیں تو وہ سامان بھی سیکیورٹی کے مختلف مراحل سے گزرتا ہے ، ان ہی مراحل میں ایک کتے بھی ہیں ، جی ہاں آپ کے سامان کو کتے سونگھتے ہیں جو کہ ٹرینڈ ہوتے ہیں اور اگر اس سامان میں کوئی مشکوک چیز ہوتی ہے تو وہ فوراً اس کی نشاندہی کرتے ہیں۔
5۔ ہوائی مسافروں کا کھانا:
تمام بڑے ائیر پورٹس پر وہاں کے باورچی خانوں میں 24 گھنٹے کھانا پکتا ہے کیونکہ مستقل فلائٹس آ جا رہی ہوتی ہیں۔ عموماً جو کھانا ہمیں جہاز پر ملتا ہے وہ 6 سے 8 گھنٹے پہلے کا پکا ہوا ہوتا ہے۔