پاکستان کی ایسی کئی شخصیات ہیں جو کہ پاکستانی میڈیا پر کافی توجہ حاصل کر چکے ہیں، جبکہ ناظرین بھی خاص مواقع پر ان شخصیات کو خوب توجہ دیتے ہیں۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو مفتی منیب الرحمان کے بارے میں بتائیں گے۔
مفتی منیب الرحمان کو عام طور پر پاکستان میں مذہبی رہنما اور رمضان اور عید کے چاند کے اعلان سے متعلق یاد کیا جاتا تھا، حتیٰ کہ اب بھی وہ اس حوالے سے مقبول ہیں۔
لیکن اپنے دھیمے لہجے اور حسن اخلاق کی بدولت مفتی منیب الرحمان مخالف ہو یا پھر میزبان، سب کو اپنے دھیمے انداز سے متوجہ کر لیتے ہیں، اور ساتھ ہی یہ ماننے پر بھی مجبور کر دیتے ہیں کہ مفتی منیب بحث میں بھی صبر اور خوش اخلاقی کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے۔
مفتی منیب الرحمان نہ صرف رویت ہلال کمیٹی کے چئیرمین رہ چکے ہیں بلکہ جناح یونی ورسٹی برائے وومن میں پروفیسر کے طور پر بھی اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔
تنظیم المدارس اور دارالعلوم نعیمیہ کے صدر کے طور پر بھی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں، مفتی منیب الرحمان بینک کے شریعہ بورڈ کے ہیڈ کے طور پر بھی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔
فروری 1945 کو مانسہرہ میں پیدا ہونے والے مفتی منیب الرحمان اسلامک اسٹڈیز میں ماسٹرز کیا، جبکہ اسلامک تعلیم کے حوالے سے گراں قدر خدمات پیش کر چکے ہیں، کئی مرتبہ مفتی منیب دنیا نیوز کے صبح کے پروگرام میں بھی شرکت کر چکے ہیں، جس میں علمائے کرام اور مذہبی رہنما مسائل کے حل اور قرآنی تعلیمات کا ذکر کرتے ہیں۔
یہ بات بھی بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ مفتی منیب الرحمان کا ایک بیٹا بھی تھا، جن کا نام تھا ضیاء الرحمان۔ لیکن اس وقت مفتی منیب الرحمان کے لیے تکلیف دہ لمحہ تھا جب ان کا اکلوتا بیٹا ضیاء الرحمان 36 سال کی عمر میں کینسر میں مبتلا ہو کر جہان فانی سے کوچ کر گیا۔
بیٹے کا جنازہ بھی خود پڑھایا اور دعا بھی خود کرائی، والد کا صبر دیکھ کر نہ صرف ان کے چاہنے والے جذباتی ہو رہے تھے بلکہ پاکستان بھر میں یہ پیغام بھی دیا کہ ہم سب اللہ کی امانت ہیں، اور اولاد اللہ کی طرف سے تھی۔