آخر کار دعا زہرا کراچی جانے کے لیے روانہ ہو ہی گئی۔ لاہور کی مقامی عدالت کی جانب سے دعا زہرا کو کراچی منتقل کرنے کا حکم دیا گیا تھا جس پر سندھ پولیس بچی کو کراچی لا رہی ہوگی۔
دعا زہرا کی سوشل میڈیا پر سندھ پولیس کے اہلکاروں کے ساتھ ہنستی مسکراتی تصویر سامنے آئی جس کے بعد یہ اطمینان ہوا کہ بچی اب محفوظ ہاتھوں میں ہے اور ظہیر اور اس کے گینگ سے چھٹکارا حاصل کرچکی ہے۔
اس حوالے سے اینکر پرسن سید اقرارالحسن کی جانب سے یوٹیوب پر ویلاگ بھی اپ لوڈ کیا گیا ہے جس میں انہوں نے دعا زہرا کی منتقلی پرگفتگو کی اور شکر خدا کیا۔
اقرارالحسن نے کہا دعا زہرا جسے چالاکی کےساتھ دارالامان چھوڑ کر ظہیر اور اس کا گینگ خاموشی کے ساتھ فرار ہوگئے تھے اور باقاعدہ بچی سے لکھوایا گیا کہ اس کے ظہیر کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہیں اور اس بیان کی بنیاد پر مجسٹریٹ صاحب نے اس کو دارالامان بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ اب الحمداللہ تمام چالیں الٹی پڑ گئی ہیں، اللہ نے دعا کے والدین کو ایک بار پھر سرخرو کیا ہے۔
اقرار الحسن نے کہا کہ دعا ظہرہ اپنے والدین سے ملنے کے بہت قریب ہوگئی ہے اور لاہور عدالت کا جو فیصلہ آیا اس کے مطابق ظہیر اور اس کا گینگ دعا سے کبھی نہیں مل سکے گا۔
اینکر پرسن نے کہا کہ ظہیر احمد جسے مبینہ بھی نہیں کہا جاسکتا اس نے واضح طور پر دعا کو ورغلا کر اس سےجعلی نکاح کیا تھا اب اس سے کبھی نہیں مل پائے گا۔
سید اقرارالحسن نے مزید کیا کچھ کہا نیچے ویڈیو دیکھیں۔