اشفاق احمد اور بانو قدسیہ پاکستان کی ان مشہور اور پسندیدہ شخصیات میں شامل ہیں جنہوں نے اپنے عمل سے ثابت کیا کہ ایک مرد اور عورت اندرونی طور پر بھی کس حد تک خوبصورت ہو سکتے ہیں۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو ان کے تیسرے اور چھوٹے بیٹے اسیر احمد خان کے بارے میں بتائیں گے۔
اسیر احمد خان کا انٹرویو افتخار احمد عثمانی کی جانب سے لیا گیا تھا، داستان سرائے میں جو لنگر اشفاق احمد اور بانو قدسیہ کی رحلت کے بعد بھی جاری رہا، وہ اسیر احمد خان نے ہی سنبھالے رکھا ہوا ہے۔
اسیر احمد خان بتاتے ہیں کہ میں نے اپنے والدین کے درمیان لڑائی ہوتے نہیں دیکھی، لیکن جب میری اور اہلیہ کی لڑائی تو پتہ چلا کہ میاں بیوی کے درمیان لڑائی بھی ہوتی ہے۔
انٹرویو کے دوران اسیر احمد خان نے بھی اپنی دلچسپی کا اظہار کیا اور وہ بھی والدین ہی کی طرح کتب اور علم کی روشنی سے فیض یاب ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ بولنے کا سلیقہ، لہجے میں شفقت اور بااخلاق، والدین کی تربیت کا منہ بولتا ثبوت نظر آ رہا تھا۔
ماضی کی ایک یاد کو بھی شئیر کیا اور بتایا کہ 1970 میں جہاں ہم رہائش پذیر تھے، وہاں سامنے فیض صاحب ہوا کرتے تھے اور ساتھ میں حفیظ جالندھری صاحب۔
اسیر احمد خان کا کہنا تھا کہ میرے والد جیسے بابے بنے بنائے آتے ہیں، ایسے لوگ بنتے نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم پٹھان ہیں اور افغانستان سے ہجرت کر کے آئے تھے۔
اشفاق احمد کے چھوٹے بیٹے کرکٹر بننا چاہتے تھے، لیکن بینک کے شعبے سے منسلک ہو گئے۔ اسیر احمد خان نے واشنگٹن یونی ورسٹی سے ایم بی اے مکمل کیا ہے۔ جبکہ کالم نگاری بھی کر چکے ہیں اور نوائے وقت میں کالم لکھا کرتے تھے۔