پاکستان کا پرانا کلچر اب ختم ہوتا جا رہا ہے، ایک وقت تھا جب خاندان کے لوگ آپس میں بیٹھا کرتے تھے باتیں کرتے تھے خوشیاں مناتے تھے لیکن اب سب کچھ ختم ہوتا جا رہا ہے۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو اسی حوالے سے بتائیں گے۔
ایک وقت تھا جب گاؤں دیہاتوں کو فخر سمجھا جاتا تھا اور لوگ جانے کو ترستے تھے لیکن اب جدید دور میں اپنی بہترین یادوں اور خوشگوار لمحات کو دہرانا بھی بے عزتی سمجھنے لگ گئے ہیں۔
ایک خیال یہ بھی ہے ہے گاؤں اور دیہات میں پلنے والے بھی اب شہروں کا رخ کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے گاؤں دیہاتوں کی رونقیں ماند پڑتی جا رہی ہیں، بڑے بوڑھے تنہا ہوتے جا رہے ہیں۔
ایک وقت یہ بھی تھا جب شام کے اوقات کھیت کے پاس ایک گھنے درخت کے نیچے بڑے بوڑھوں کی محفل سجا کرتی تھی جہاں مقامی زبان میں اپنے جذبات کا اظہار کیا جاتا تھا اور تاثرات کو ظاہر کیا جاتا تھا۔
پھر ایک وقت یہ بھی تھا کہ مٹی کے گھر میں، لکڑی کے چولہے پر بنی روٹی کو بڑے شوق سے کھایا جاتا تھا مگر اب حال یہ ہے کہ روٹی تو دور کی بات ہے مشینوں سے بنی مختلف ڈشز پسند آتی ہیں۔ جو اگرچہ ذائقہ میں لذیذ ہوتی ہیں مگر صحت کے لیے مضر بھی۔
گاؤں دیہاتوں میں خواتین بھی مقامی لباس پہنتی تھیں جو کہ دلچسپ ہوتے تھے انہیں دیکھ کر یوں لگتا تھا کہ دنیا میں اور بھی مختلف قسم کے کپڑے موجود ہیں، جو منفرد بھی ہوتے ہیں اور دلچسپ بھی۔
شادی بیاہ کی تقریبا بھی کافی منفرد اور معمولی سی ہوتی ہیں جن کا اپنا ہی مزاح ہوتا تھا۔ نہ زیادہ خرچہ نہ ہی زیادہ نمائش، لیکن دل میں موجود خوشی سب کے چہروں کو مسکراہٹ سے بھر دیتی تھی۔
خواتین اپنے ہاتھوں سے شادی کے جوڑوں کی تیاری کرتی، گھر سجاتی، رونقیں ہوتی اور مرد حضرات گھر کے باہر کھانا بنانے کی تیاری کر رہے ہوتے، یہ وہ وقت تھا جب دلوں میں میل نہیں تھا اور دوریاں بھی نہیں تھیں۔