کندھ کوٹ میں تین ماہ قبل لاپتہ ہونے والے نوجوان غلام مرتضیٰ گولو کے واقعے کا ڈراپ سین ہو گیا۔ پولیس کے مطابق مقتول کے سسر سمیت دو قریبی رشتے داروں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان بشیر احمد، حضور بخش اور وارث گولو نے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے غلام مرتضیٰ گولو کو قتل کر کے اس کی نعش دریا میں پھینک دی تھی۔
پولیس کے مطابق تفتیش کے دائرے کو مزید وسیع کرتے ہوئے مقتول کی اہلیہ اور ساس کو بھی شاملِ تفتیش کر لیا گیا ہے۔ ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ واقعہ دونوں فریقین کے درمیان گھریلو تنازع کے باعث پیش آیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مزید تفتیش جاری ہے اور قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد مزید حقائق سامنے لائے جائیں گے۔