سوشل میڈیا پر دلچسپ اور حیرت انگیز خبریں تو بہت ہیں لیکن کچھ ایسی ہوتی ہیں جو کہ سب کے لیے پُر اثر بھی ہوتی ہیں۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو بتائیں گے کہ موت سے چند پہلے انسان کیسا محسوس کرتا ہے۔
سائنس اس حوالے سے مختلف رائے رکھتی ہے، یہ رائے مختلف تو ہی ساتھ ہی خوفناک بھی۔ Healthdirect نامی ویب سائٹ کی جانب سے اس حوالے سے باقاعدہ طور پر آرٹیکل پبلش کیا گیا جس میں ایسی ہی کچھ معلومات فراہم کی گئی۔
مرنے سے چند دن پہلے تک انسان کا اندرونی نظام کمزور اور سست ہونا شروع ہو جاتا ہے، دل کی دھڑکن بھی دھڑکنا کم کر دیتی ہے، جس کی وجہ سے جسم میں خون کی روانی بھی کم ہو جاتی ہے۔ اس کا مطلب دماغ اور دیگر آرگنز کو آکسیجن کی فراہمی بھی متاثر ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ جس کی وجہ سے اعضاء کا کام متاثر ہوتا ہے۔
ویب سائٹ کا کہنا تھا کہ موت سے چند ہفتوں پہلے تک انسان تھکاوٹ محسوس کرتا ہے، جبکہ سماجی رابطوں جن میں بات چیت شامل ہیں یہ سب بھی کم کردیتا ہے۔ زیادہ تر وقت تنہائی میں سو کر گزارتا ہے۔
موت کو قریب محسوس کرتا شخص کا مدافعتی نظام بھی سست ہو جاتا ہے، جلد بھی پتلی ہونا شروع ہو جاتی ہے کیونکہ جلد میں نئے سیلز بننا کم ہو جاتے ہیں۔
جبکہ ویب سائٹ کے مطابق موت سے چند دن پہلے انسان کو اپنے سانس لینے میں تکلیف محسوس ہوتی ہے، جبکہ کچھ لوگوں میں ایک ایسی انرجی بھی دیکھنے کو ملتی ہے جو ہوتی چند منٹ کی ہے مگر موت سے پہلے ہوتی ہے وہ بالکل عام سے معلوم ہو رہے ہوتے ہیں۔
خون کی روانی متاثر ہونے کی وجہ سے انسان کی جلد کا رنگ بھی تبدیل ہو جاتا ہے، آکسیجن کی روانی متاثر ہوتی ہے اور انسان یہ تک بھول جاتا ہے کہ کون قریب ہے اور کون نہیں، یہاں تک کے پہچاننا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔
چند گھنٹوں پہلے موت کا شکار ہونے والا شخص تنہائی کو فوقیت دیتا ہے، جبکہ زیادہ بات چیت بھی نہیں کرتا ہے۔ دل کی دھڑکن بھی دھڑکنا ایک طرح سے بالکل کم کر دیتی ہے، ہاتھ ٹھنڈے پڑنا شروع ہو جاتے ہیں، آنکھیں بھی آدھی کھلی ہوتی ہیں، یہاں تک کے چند منٹ پہلے منہ تک کھلا رہتا ہے۔