میرے پاؤں پر چوٹ لگی تو اسے کیڑے کھانے لگے ۔۔ آدمی کے پاؤں کی چھوٹی سی خراش کس طرح بڑی پریشانی بن گئی؟

image

سائنس اور ریسرچ کی دنیا میں کام کبھی ختم نہیں ہوتا ۔ دن رات نئی نئی چیزیں سامنے آتی رہتی ہیں جن پر تحقیق ہوتی رہتی ہے اور دنیا کے سامنے نتائج آتے رہتے ہیں۔ یہی کبھی کسی کی بیماری اس کی وجہ بن جاتی ہے اور کبھی کسی کے ساتھ ہوئی کوئی انہونی تحقیق کے نئے در وا کردیتی ہے۔ یہاں ہم بات کریں گے ایک جان لیوا مرض" نیکروٹائزنگ فسائیٹس" کی جس میں معمولی سی کھرونچ یا خراش بھی جسم کا گوشت کھانے والے جان لیوا مرض میں مبتلا کردیتی ہے ۔

نیکروٹائزنگ فسائیٹس

یہ بیکٹیریل انفیکشن ہر سال برطانیہ میں لگ بھگ 500 افراد کو متاثر کرتا ہے۔ اور اس کا نام" نیکروٹائزنگ فسائیٹس" ہے۔ اس میں کوئی بھی معمولی خراش یا کھرونچ بھی اس بیکٹیریل انفیکشن کے پھیلنے کی وجہ بن سکتی ہے۔ برطانیہ میں ہر سال ایک لاکھ تیس ہزر افراد میں سے ایک فرد اس مرض کا شکار ہوتا ہے۔ اس میں چوٹ لگنے کی جگہ تکلیف بے انتہا بڑھ جاتی ہے۔ اور ورم آجاتا ہے۔

بی بی سی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق برطانیہ کا رہائشی اسکاٹ جو کہ ایک ڈی جے اور موسیقار ہے۔ اس کے گھٹنے پہ لگنے والی ایک معمولی خراش نے اسے موت کے دہانے پر پہنچادیا۔ یہ تکلیف اس قدر بڑھ گئی تھی کہ یا تو اسکاٹ اپنی ٹانگ سے محروم ہوجاتے یا جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے۔

اسکاٹ نیل جو اس مرض کا شکار ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس معمولی سے زخم میں تکلیف اتنی زیادہ تھی کہ میں لوگوں سے رو رو کر التجا کررہا تھا کہ مجھے ہسپتال پہنچا دو۔ اور ڈاکٹرز کا بھی یہ کہنا تھا کہ اگر اسکاٹ کو اس وقت پسپتال نہ پہنچایا جاتا تو یا تو اس کی ٹانگ کاٹنی پڑتی یا وہ موت کے منہ میں چلا جاتا۔ اس کی چھ ہفتوں میں چھ سرجریز ہوئیں۔ جس میں پتہ چلا کہ نیکروٹائزنگ فسائیٹس کے سبب بیکٹیریا ان کے گھٹنے اور ران کے پٹھوں کا بہت سا گوشت کھا چکا تھا۔ ان سرجریز میں اس کے جسم کے دوسرے حصوں سے پٹھے لے کر متاثرہ حصوں کی ریپئرنگ کی گئی۔ اور ان کے یہ آپریشن کامیاب ہوئے اور اسکاٹ دوبارہ چلنے کے قابل ہوئے۔

نیکروٹائزنگ فسائیٹس کیا مرض ہے؟

ڈاکٹرز کا یہ کہنا ہے کہ "نیکروٹائزنگ فسائیٹس کے پھیلنے کے لیے ایک خاص قسم کا بیکٹیریا ہے یہ کسی معمولی سی خراش سے جسم میں داخل ہو جاتا ہے۔ یہ انفیکشن ہونے پر بیکٹیریا جلد کے نیچے پٹھوں پر حملہ کرتا ہے، اور فوری علاج میسر نہ ہو تو جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔ یہ بیکٹیریا ایک ٹاکسن بھی چھوڑتا ہے جو آس پاس کی نسوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔

ابتدائی علامات:

اس کی ابتدائی علامات میں فلو جیسی کیفیت ہوتی ہے، اس کے ساتھ متلی ،الٹی، اور چوٹ لگنے والی جگہ پر سوجن شروع ہوجاتی ہے اور تکلیف بڑھنے لگتی ہے۔ اس کو پھیلنے اور بڑھنے میں ٹائم نہیں لگتا کیونکہ یہ بیکٹیریا ایک ٹاکسن بھی چھوڑتا ہے جو آس پاس کی نسوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔ جس کی وجہ سے خون میں زہر پھیلنے یا جسم کے کسی عضو کے متاثر ہونے کا خطرہ بھی رہتا ہے۔ اور جب درد کش ادویات بھی مریض کو آرام نہ پہنچا سکیں تب ڈاکٹرزکو یہ سمجھنا چاہیے کہ معاملہ نیکروٹائزنگ فسائیٹس کا ہو سکتا ہے۔ ایسے میں مریض کو فوری طور پر اینٹی بایوٹکس دے دینی چاہیے۔

اس وقت اس مرض کے بارے میں آگا ہی اتنی زیادہ نہیں ہے اس لئے بہت سے مریض تو ڈاکٹرز تک پہنچنے سے پہلے ہی فوت ہو جاتے ہیں۔ اس لئے اس بات کی ضرورت ہے کہ اس بیماری کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات لوگوں تک پہنچائی جائیں تاکہ اس کا فوری علاج ہوسکے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US