100 سال بعد قبر بنی اور لوہے کا دروازہ لگایا ۔۔ مشہور شاعر مرزا غالب کی قبر کہاں ہے، موت سے متعلق کیا شعر کہا کرتے تھے؟ ویڈیو

image

مرزا اسد اللہ خان غالب جنہیں عام طور پر پاکستانی، بھارت سمیت اردو ادب سے محبت رکھنے والے غالب کے نام سے یاد کرتے ہیں، اردو ادب کا ایک ایسا نام تھا جس کے شاعری میں کمال دکھایا تھا۔

جس نے اپنی شاعری کے ذریعے وہ کچھ کہہ دیا جو معاشرے کا آئینہ تھا، ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو اسی حوالے سے بتائیں گے۔

ہوئے مر کے ہم جو رسوا، ہوئے کیوں نہ غرق دریا

نہ کبھی جنازہ اٹھتا، نہ کہیں مزار ہوتا

مرزا اسد اللہ خان غالب کے شعر و شاعری میں صرف خواتین اور محبت ہی نہیں بلکہ موت کا بھی ذکر ہوتا تھا، جس کا ثبوت ان کا یہی شعر ہے۔

لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ مرزا غالب کی قبر کہا موجود ہے اور کس حال میں ہے؟ حضرت نظام الدین اولیاء کے مزار کے پاس موجود ایک چھوٹا کا مقبرہ جو کہ سفید ٹائلز سے بنایا گیا ہے، اسی مشہور ہند کے شاعر کا ہے جو غالب کے نام سے مشہور ہیں۔

دہلی شہر کو غالب نے اپنے دل کے قریب رکھا ہوا تھا اور دہلی کا وہ محلہ جہاں انہوں نے اپنی زندگی گزاری اسی محلے میں آخری سانسیں بھی لیں، تاہم ان کی تدفین 71 سال کی عمر میں نظام الدین اولیاء کے مزار کے پاس موجود قبرستان میں ہوئی۔

جالیوں کی دیواروں میں موجود مرزا اسد اللہ خان غالب کا مقبرہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ کسی پرانے دور کا شاہکار ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ 1869 میں ان کی وفات ہوئی، لیکن یہ بات بھی بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ ان کی وفات کے 100 سال بعد ان کی قبر پر مقبرہ بنایا گیا، یعنی اس سے پہلے ان کی قبر ایک عام قبر جیسی ہی تھی۔

جبکہ ان کی قبر کی دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ قبر ایک تہہ خانے میں موجود ہے، جس تک پہنچنے کے لیے لوہے کا دروازہ استعمال کیا جاتا ہے، قبر تک پہنچنے کے لیے بہت چند لوگوں کو ہی اجازت دی جاتی ہے۔ چاہنے والے آتے ہیں اور باہر سے ہی قبر پر پھول ڈالتے اور فاتحہ خوانی کرتے ہیں جبکہ اسی مقبرے کے ساتھ غالب اکیڈمی بھی موجود ہے جہاں ان کے شاعرانہ لام سمیت دیگر آرٹسٹک ورک کو رکھا گیا ہے۔

اسی مقبرے کے پاس غالب کے کچھ دیگر خاندانی افراد کی قبریں بھی موجود ہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US