پاکستان ٹیلی ویژن کا 60، 70، 80 اور 90 کی دہائی کا دور اس حد تک خوبصورت اور یادگار تھا جس نے سب کو اپنی طرف متوجہ کیا۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو پی ٹی وی کی ایک ایسی ہی خاتون نیوز کاسٹر کے بارے میں بتائیں گے جو ایران سے پاکستان واپس آئیں۔
مشہور نیوز کاسٹر ثریا شہاب پاکستان ٹیلی ویژن کی معروف اور مقبول اینکرز میں شامل تھیں، جن کا خبریں پڑھنے کا انداز تو نرالا تھا ہی ساتھ ہی وہ زمانے کے حساب سے چل رہی تھیں۔
ثریا شہاب نے 1960 میں پاکستان ٹیلی ویژن بطور نیوز کاسٹر جوائن کیا تھا، یوں اس طرح ان کی زندگی میں ایک نئے باب کا اضافہ ہوا تھا، وہ اپنی صلاحیتوں کی بنا پر کامیابیاں سمیٹتی جا رہی تھیں۔
پھر ریڈیو ایران زاہدان کی اردو سروس کے ساتھ منسلک ہو گئیں جہاں وہ ایران کے کافی قریب ہو گئیں، جس کے بعد وہ بی بی سی اردو سے منسلک ہو گئیں اور برطانیہ چلی گئیں۔ جس کے بعد جرمن صحافتی ادارے ڈی ڈبلیو کے ساتھ بھی منسلک رہیں جس کے لیے وہ جرمنی چلی گئیں۔
لیکن پھر وہ پاکستان آ گئیں، جہاں رہائش اختیار کی، اسی دوران انہیں چھاتی کا سرطان ہو گیا، کینسر جیسے موذی مرض میں بھی انہوں نے ہمت نہیں ہاری تھی اور اسے شکست دینے کے لیے پُر امید رہیں۔
ثریا شہاب صرف نیوز کاسٹر ہی نہیں بلکہ شاعرہ اور افسانہ نگار بھی تھیں، جبک سماجی کاموں میں بھی اپنا حصہ ڈالا۔
لیکن کینسر کے مرض کی سرجری کے لیے جرمنی گئیں، جہاں ڈاکٹرز نے دماغ تک پہنچنے والے کینسر کے سیلز کو نہ نکال سکے اور اس طرح وہ اس مرض کے علاوہ دماغی مرض الزائمر کا شکار بھی ہو گئیں، جس سے ان کی یاد داشت پر بھی اثر پڑا۔
ثریا شہاب 2019 میں جہان فانی سے کوچ کر گئی تھیں، مشہور و مقبول نیوز کاسٹر اچانک خاموشی سے اس دنیا سے رخصت ہو گئی تھیں۔