جس طرح پاکستان میں جنات سے متعلق مختلف نظریات موجود ہیں اسی طرح دیگر ممالک میں بھی کچھ ایسے نظریات ہیں جو کہ سب کو حیرت میں مبتلا کر دیتے ہیں۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو ننھے جنات کے بارے میں بتائیں گے۔
انڈونیشیاء اور پڑوسی ممالک کے رہنے والوں میں Toyol ٹویول جنات کا نظریہ کافی مضبوط ہے، ٹویول دراصل ایک ایسا جنات ہے جو کہ بچہ ہوتا ہے، یعنی چھوٹی عمر کا جنات جو کہ شیطانی طاقتیں رکھتا ہے،
دکھنے میں ہرے رنگ کی رنگت، نوکیلے دانت، سرخ آنکھیں اور شیطان چہرے والا یہ بچہ نومولود بچہ ہوتا ہے، یا پھر ایک ایسا بچہ جو کہ پیدائش کے تھوڑا بعد ہی کا ہوتا ہے۔
ٹویول دراصل ایک ایسے بچے کی روح ہوتی ہے جو کہ پیدائش سے پہلے ہی مر جاتا ہے، مگر جب جنات کی شکل میں سامنے آتا ہے تو یوں لگتا ہے کہ وہ بچہ جو پیدائش کے کچھ عرصے بعد تک کے مہینے کا ہوتا ہے۔ ٹویول کو کالے جادو کے لیے جادو کرنے والے خاص طور پر استعمال کرتے ہیں، مخصوص گھر میں بد امنی پھیلانے، ماحول کو خراب کرنے اور نقصان دینے کی غرض سے استعمال کیا جاتا ہے۔
انڈونیشیائی نظریے کے مطابق لاش کے تیل کے ساتھ مطلوبہ شخص کے جسم کا بال، خون یا اس سے منسلک کسی چیز کو رکھا جاتا ہے، جبکہ چھوٹے نومولود بچوں کا دودھ، کھلونا، یا کسی بی چیز کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اس ننھے جن کو بلانے کے لیے بھی اسی نظریے پر عمل کیا جاتا ہے۔
انڈونیشیائی نظریے کے مطابق ٹویول جنات کسی کا قتل تو نہیں کر سکتے، لیکن چھوٹے موٹے کاموں جیسے کہ چیزیں چرانے، تنگ کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔
ساتھ ہی انڈونیشیاء میں یہ بھی تصور عام ہے کہ اگر آپ نے ٹویول جنات کو دیکھ لیں، تو اسے بھگانے کے لیے یا ڈرانے کے لیے بچوں کے کھلونے یا کوئی نوکیلی چیز اپنے پیارے کے پاس رکھ دیں۔ یہاں یہ بات بھی واضح کردی جائے کہ پاکستان میں بھی نومولود بچوں کے پاس نوکیلی چیز رکھی جاتی ہے۔
نوکیلی چیزوں سے ٹویول جنات ڈرتے ہیں اور قریب نہیں آتے ہیں۔ جبکہ ٹویول جنات اس وقت کسی کو نقصان نہیں پہنچاتے جب تک انہیں کوئی جادو کے ذریعے غلط کام کے لیے دباؤ نہ ڈالیں۔