محرم الحرام کا احترام صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ غیرمسلمان بھی کرتے ہیں۔ یہ وہ موقع ہے جبکہ ہندو اور مسلم مل بانٹ کر کام کرتے ہیں۔ اس کی مثال ہم بھارت کے شہر امروہہ سے بھی اخذ کر سکتے ہیں۔ امروہہ اترپردیش کا شہر ہے جہاں بڑی تعداد میں ہندو اور مسلمان مل کر مجالس و جلوس کا اہتمام کرتے ہیں اور سبیلیں لگاتے ہیں۔ صرف بھارت ہی نہیں پاکستان میں بھی ایسی مثالیں پائی جاتی ہیں۔
ٹوئٹر پر سنجے راجہ نامی صارف کا ٹوئٹ اور تصاویر وائرل ہو رہی ہیں جس پر انہیں ہر کوئی داد دے رہا ہے کیونکہ وہ خود ہندو ہیں لیکن انہوں اور ان کی فیملی نے محرم الحرام کا احترام کرکے سب کے دل جیت لیے۔
سنجے کہتے ہیں: "آج میری بیٹی حورم کی پہلی سالگرہ ہے ہم مسلمان تو نہیں ہیں پر چونکے آج 10 محرم ہے تو ہم سب نے آج اسکی سالگرہ نا منانے کا فیصلہ کیا ۔ مذہبی رواداری کے پیشِ نظر نیاز کا اہتمام کیا اور پیکٹ بنا کر دوستوں اور غریبوں میں تقسیم کیۓ اور خود بہی کھایا۔ رب بیٹی پر
اپنی رحمت قائم رکھے "۔
اس مرتبہ دیکھا گیا کہ 9 اور 10 محرم پر 4 چھٹیاں مل گئیں جس کے باعث بڑی تعداد میں لوگ ہنزہ اور سوات گھومنے گئے جس پر اعتراضات ہوئے مگر وہیں سنجے جیسے لوگوں کے اقدامات بھی بھائی چارگی کی بہترین مثال قائم کی۔