کراچی میں حالیہ بارشوں کے بعد جہاں سڑکیں تالاب کا منظر پیش کر رہی ہیں وہیں اب وزیر موسمیاتی تبدیلی نے بھی خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو اسی حوالے سے بتائیں گے۔
پاکستان سمیت ایشیاء کے کئی ممالک میں موسمیاتی تبدیلی نے شدید تباہی مچائی ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مون سون سسٹم جو کہ کراچی کے بعد بحیرہ عرب تک ہی رہتے تھے اب ایران اور خلیجی ریاستوں سے پھیل گیا ہے۔
جبکہ اب سیکریٹری وزیر موسمیاتی تبدیلی کی جانب سے بھی باضابطہ طور پر خطرے سے آگاہ کیا گیا ہے۔ سیکریٹری آصف حیدر شاہ کی جانب سے کہنا تھا کہ سمندری سطح میں 36 سے 50 سینٹی میٹر تک کا اضافہ ہو سکتا ہے، جس کی وجہ کئی شہر پانی میں ڈوب سکتے ہیں۔
سینیٹ اسٹینڈنگ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کی اہم میٹینگ میں چئیرمین این ڈی ایم اے لیفٹینینٹ جنرل اختر نواز کا کہنا تھا کہ 10 لاکھ شہری ساحلی پٹی اور ساحلی علاقوں میں رہائش اختیار کیے ہوئے ہیں، جن کی منتقلی فل وقت ممکن نہیں ہے۔
دوسری جانب سکریٹری آصف حیدر شاہ کا کہنا تھا کہ سمندری سطح میں اضافہ ہو سکتا ہے جس کی وجہ سے شہرو کو خطرہ ہے اگرچہ انہوں نے شہروں کا نام نہیں لیا، لیکن سمندر سطح سے ساحلی علاقے ہی متاثر ہوں گے۔
وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی شیری رحمان کا کہنا تھا کہ محمکہ موسمیات پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کے نیچے کام کرتا ہے، اور وارننگ بھی جاری کرتا ہے، صوبوں میں ہی پاننگ کا فقدان ہے۔