اسلام میں شہید کا رتبہ بہت بلند ہوتا ہے۔ اور شہید کے لیے یہ بات طے ہے کہ وہ بنا حساب کتاب کے جنت میں داخل ہوگا۔
پاک آرمی کے فوجی جوان سرحدوں پر پاکستان کی رکھوالی کرتے ہیں جس میں ان کی قیمتی جانیں بھی ضائع ہوجاتی ہیں۔ وہ پاکستان کی عوام اور ملک کے لیے دفاع کے لیے 24 گھنٹے اپنی ڈیوٹی پر تعینات رہتے ہیں۔
آج ہم جانیں گے کہ پاک آرمی کے جوان جب شہید ہوجاتے ہیں تو ان کی آخری رسومات کیسے کی جاتی ہیں؟
معروف صحافی ارشد شریف کے والد اور بھائی دونوں پاک افواج میں اپنے فرائض سر انجام دے چکے ہیں۔ ارشد شریف کے بھائی میجر اشرف شہید کو سفاک دہشت گردوں نے بزدلانہ حملہ کرکے شہید کردیا تھا۔
ارشد شریف کے بھائی میجر اشرف والد کے انتقال پر آرہے تھے کہ راستے میں انہیں دہشتگردوں نے شہید کر دیا تھا۔اپنے بھائی کی تدفین پر ارشد شریف پرچم کو سینے سے لگائے رو رہے تھے۔
شہید فوجی افسر کی آخری رسومات کیسے ہوتی ہیں؟
شہید کی میت کو ایک باکس (تابوت) کے اندر رکھا جاتا ہے اور تابوت میں چہرے چہرے کی طرف ایک شیشہ نصب ہوتا ہے تاکہ لوگ باہر سے ہی فوت ہونے والے کا دیدار کرسکیں۔
تابوت وطنِ عزیز کے پرچم سے ڈھکا ہوتا ہے کیونکہ شہید نے ملک کی خاطر جان کا نذرانہ پیش کیا ہوتا ہے۔ پھر اس پرچم کے تابوت سے اتار کر لپیٹ دیا جاتا ہے جس کے بعد اس جھنڈے کو فوج کا کوئی بڑا افسر اہلخانہ کے حوالے کر دیتا ہے۔