چند ماہ بعد ہی پودے کھلنے لگے ۔۔ کس کی قبر پر آیت لکھی ہے، مشہور شخصیات کی قبریں کیسی ہیں؟

image

مشہور شخصیات جو اب اس دنیا میں نہیں رہی وہ اگرچہ ہم میں نہیں لیکن ان کی قبر اب بھی بتا رہی ہیں کہ مداحوں کی آخری یاد وہ ہی ہیں۔

ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو مشہور شخصیات کی قبر سے متعلق بتائیں گے۔

راحت اندوری:

مشہور بھارتی شاعر جو کہ پاکستان میں شہرت کی بلندی کو چھو رہے تھے، 2020 میں راحت اندوری کا اچانک انتقال سب کو افسردہ کر گیا تھا، اردو زبان پر مہارت رکھنے والے راحت اندوری سابق پروفیسر بھی تھے۔

آج ان کی قبر اندور کے قبرستان میں مدفون ہیں، لیکن ان کی قبر پر موجود ہریالی نے سب کی توجہ حاصل کی، ہرے بھرے پتے ان کی قبر کو مزید خوبصورت بنا رہے تھے بالکل ایسے ہی جیسے وہ اپنی شاعری سے ماحول کو خوبصورت بناتے تھے۔ راحت اندوری کی قبر کے کتبے پر آیت بھی درج ہے، کل نفس ذائقۃ الموت۔ اس آیت کو پڑھ کر یہاں آنے والا اپنی موت کو بھی یاد کرتا ہے۔

عبدالستار ایدھی:

انسانیت کے مسیحا اور ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ عبدالستار ایدھی نے دنیا بھر میں اپنا ایک مقام بنایا اور دنیا بھر کو بتایا کہ جب پاکستان مشکل وقت میں تھا تو کیسے اپنوں نے ہی ان کی مدد کی اور سماج کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کیا۔

ایدھی فاؤنڈیشن کو دنیا بھر میں متعارف کرانے والے عبدالستار ایدھی نے یتیم بچوں کی پرورش بھی کی، انہیں پڑھایا بھی، بیوہ عورتوں کے لیے سہارا بنے، اور مجبور لڑکیوں کے والد بنے۔

انسانیت کا درد رکھنے والا یہ فرشتہ 2016 میں جہان فانی سے کوچ کر گئے تھے، عبدالستار ایدھی نے اپنی قبر موت سے پہلے ہی مختص کر دی تھی جو کہ سپر ہائی وے پر واقع ایدھی قبرستان میں موجود تھی۔ عام سی قبر جس میں انہیں دفنایا گیا، آج ان کی قبر پر ہر طبقے، رنگ و نسل اور مذہب کا انسان آتا ہے اور اپنی محبت کا اظہار کرتا ہے۔

ان کی قبر کے کتبے پر انسانیت کی خدمت سے متعلق ہی شعر لکھا ہے۔

ضیاء الحق:

پاکستان کی مشہور شخصیات میں جنرل ضیاء الحق کا شمار بھی کافی کیا جاتا ہے، مذہبی طور پر بھی جنرل ضیاء الحق کافی فعال تھے جس کی وجہ سے پاکستانیوں کی ایک تعداد انہیں پسند کیا کرتی تھی۔

لیکن اچانک دوران سفر حادثے میں ان کا جہاز تباہ ہوا اور جنرل ضیاء بھی وفات پا گئے۔

جنرل ضیاء کی قبر اسلام آباد میں موجود ہے، لیکن سوشل میڈیا پر چند ایسی تصاویر بھی موجود ہیں جن میں ان کی قبر کے پاس بلیوں کو بھی دیکھا گیا تھا، جس نے ان کے چاہنے والوں کو افسردہ کر دیا تھا۔

فاطمہ جناح:

فاطمہ جناح کے انتقال کے بعد قبر تیار ہونے میں 12 گھنٹے لگ گئے تھے، یہ 12 گھنٹے بھی ایک ایسی وجہ سے گے جو کہ عوام کے غم و غصہ اور دباؤ کی بنا پر تھے۔

دراصل فاطمہ جناح کی خواہش تھی کہ انہیں قائدا اعظم محمد علی جناح کے برابر میں دفنایا جائے مگر بقول مرزا ابوالحسن اصفہانی کے، حکومت انہیں میوہ شاہ قبرستان میں دفنانا چاہتی تھی۔

مرزا اصفہانی نے اس اقدام کی مخالفت بھی کی اور اس خطرہ سے بھی آگاہ کیا کہ اگر محترمہ کو قائداعظم کے برابر میں نہ دفنایا گیا تو خراب صورتحال کی ذمہ دار حکومت ہوگی۔ عوام میں اس وقت ایک ایسی جذباتی کیفیت تھی جو کہ انہیں محترمہ کے خلاف کسی بھی اقدام پر بھڑکا سکتی تھی۔

کیونکہ اس وقت محترمہ فاطمہ جناح عوام میں مقبولیت حاصل کر چکی تھیں۔ اس حوالے سے کمشنر کراچی نے فاطمہ جناح کے خاندانی افراد اور قائداعظم کے پرانے ساتھیوں سے مشورہ کیا، اسی طرح حکومت سے بھی اس حوالے سے رابطہ کیا گیا۔ اور پھر رات گئے حکومت کی جانب سے محترمہ فاطمہ جناح کو قائد اعظم کے برابر میں دفنانے کا فیصلہ کیا گیا۔

فاطمہ جناح کی قبر قائداعظم محمد علی جناح کے مزار سے ایک سو بیس فُٹ دور بنائی گئی۔ قبر کی لمبائی چھ فُٹ جبکہ چوڑائی تین فُٹ تھی۔ چونکہ زمین پتھریلی تھی اور باآسانی کھودنا مشکل تھا، اسی لیے بجلی سے چلنے والے آلات کا استعمال کیا گیا تھا۔ محترمہ کی قبر کشائی کے لیے بیس گورکنوں نے حصہ لیا تھا، جس کی قیادت 60 سالہ عبدالغنی کر رہے تھے جنہوں نے قائداعظم محمد علی جناح، لیاقت علی خان کی قبر کشائی بھی کی تھی۔

چونکہ زمین پتھریلی تھی یہی وجہ تھی کہ قبر کو تیار کرنے میں 12 گھنٹے لگ گئے تھے۔

دلیپ کمار:

مشہور بھارتی اداکار دلیپ کمار گزشتہ برس جہان فانی سے کوچ کر گئے تھے ان کی موت نے جہاں ان کے چاہنے والوں کو اشکبار کیا وہیں ان کی اہلیہ کے آنسو بھی رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔

دلیپ کمار 98 سال کی عمر میں انتقال کر گئے تھے، ان کی قبر ممبئی کے قبرستان میں موجود ہے، اس قبرستان میں عام طور پر قبریں ہریالی میں بیچ میں موجود ہیں۔ دلیپ کمار کی قبر کو بھی کچی رکھا گیا تھا اور ان کی قبر کے آس پاس بھی درخت اور پودے موجود ہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US