سوشل میڈیا پر شہدائے وطن سے متعلق کچھ ایسی ویڈیوز اور تصاویر موجود ہیں جو اس بات کو بار بار یاد کراتی ہیں کہ ان کی قربانی سے جہاں وطن محفوظ ہوتا ہے وہیں ان کے پیاروں کے لیے ایک نئی دنیا شروع ہو جاتی ہے۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو چند شہدائے وطن کی ننھی پریوں کے بارے میں بتائیں گے۔
شہید میجر اسحاق تمغہ بسالت:
پاکستانی فوج کا وہ ستارہ جس نے دشمن کو ان کے عزائم میں ناکام بنا دیا، خود شہادت کا جام پی لیا مگر دشمن کو کامیاب نہیں ہونے دیا۔
2017 میں شہید ہونے والے والد کی ننھی آج بھی والد کی قبر پر پھول لے کر جاتی ہے، اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے ننھی پری والد کی قبر پر وہ پھول ڈالتی ہے، اس ننھی پری کو معلوم ہے کہ میرے والد یہاں موجود ہیں۔
کیپٹن عثمان شہید:
کیپٹن عثمان نے دشمن کو ناکوں کان چنے چبوا دیے تھے، اپنی جان کا نذرانہ دے دیا، اپنی ننھی پری کو اس دنیا میں وطن کے حوالے سے کر اپنی جان قربان کر دی۔
آج ان کی بیٹی والد کی قبر پر آتی ہے اور ننھے ننھے ہاتھوں سے والد کی قبر کو صاف بھی کرتی ہے اور پھول بھی ڈالتی ہے۔ اگرچہ ان ننھے بچوں کو نہیں معلوم یہ کیا ہے لیکن جب والد سے منسلک کیا جاتا ہے تو ننھی پریاں قبر کو بھی اپنے کمرے کی طرح صاف ستھرا رکھتی ہیں۔
میجر عدیل شاہد زیدی شہید:
شہید میجر عدیل 2019 میں آئی ای ڈی بلاسٹ کے نتیجے میں جام شہادت نوش کر گئے تھے، دلیرانہ انداز اور وطن سے محبت کا جذبہ لیے شہید نے نہ صرف اپنی ننھی پریوں کو والد کا پیار دیا بلکہ وطن عزیز کے لیے بھی اپنی ذمہ داری نبھائی یہاں تک کہ شہید ہو گئے۔
شہید والد کی قبر پر تینوں بیٹیاں نہ صرف آ کر دعا کرتی ہیں بلکہ والد سے اپنی محبت کا بھی اظہار کرتی ہیں، اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے قبر صاف بھی کرتی ہیں اور قبر کے کتبے کو چومتی بھی ہیں، ننھی پریوں کی والد سے محبت پاکستانیوں کی آنکھوں میں نہ صرف آنسو لا رہی ہیں بلکہ دل بھی چلھنی کر رہی ہیں۔
میجر محمد وسیم شہید:
میجر محمد وسیم شہید بھی پاکستان آرمی کے ان جوانوں اور افسران میں شامل ہیں جو کہ شہادت کے جذبے سے سرشار تھے اور اپنے مقصد میں کامیاب بھی ہوئے۔
شہید کی بیٹی نہ صرف والد کی قبر پر جا کر ان کی قبر کا خیال رکھتی ہے بلکہ کتبے کو بھی چومتی ہیں۔ پاکستان کے جھنڈے میں لپٹی قبر کو نہ صرف بیٹی صاف رکھتی ہیں بلکہ دعا بھی کرتی ہیں۔