ملیر ندی میں ڈوبنے والا خاندان وفات پا گیا۔ کیا معلوم تھا کہ کراچی سے حیدرآباد سفر طے کر کے جانے والی فیملی کو وہ سفر آخری ہوگا۔
بارش کے موسم میں ایم نائن لنک روڈ ر سیلابی ریلے میں گاڑی بہہ گئی تھی جس میں 7 افراد افراد سوار تھے۔
وہ افراد کون تھے اس حوالے سے آپ کو بتائیں گے۔
کراچی ملیر ندی میں ڈوب کر لاپتہ ہونے والے محمد ذیشان انصاری جوکہ درزی کا کام کرتے ہیں لیاقت کالونی حیدرآباد کے رہائشی تھے ان کے اہل خانہ گزشتہ رات کار میں اپنے ایک عزیز کے گھر عقیقہ کی تقریب کیلئے حیدرآباد سے روانہ ہوئے تھے جن میں محمد ذیشان انصاری، اہلیہ رابعہ، بڑی بیٹی حمنا، تین بیٹے عیان، عباد، موسیٰ ملیر ندی کے قریب حادثے کا شکار ہوگئے۔ جبکہ کار ڈرائیور عبدالرحمن ہیرآباد حیدرآباد کا رہائشی ہے۔
ڈرائیور عبدالرحمن کے والد حاجی عبدالعزیز کا کہنا ہے کہ کراچی میں عزیز واقارب عبدالرحمن دیگر افراد کو ڈھونڈ رہے ہیں لیکن اب تک صرف بچی ہمنہ اور بچہ موسیٰ کی لاشیں ملی ہیں۔ اُدھر متاثرہ فیملی کے خاندان کے لواحقین غم سے نڈھال ہیں لیاقت کالونی میں ان کے گھر پر رش لگا ہوا ہے سب فکر مند اور تشویش میں مبتلا ہیں۔
مددگار 15 کو شہزاد نامی شہری کی جانب سے گاڑی ڈوبنے کی اطلاع دی گئی شہری گلشن حدید کا رہائشی ہے۔ ایس ایچ او میمن گوٹھ کا کہنا ہے اطلاع ملنے پر ریسکیو ٹیم، پولیس موقع پر پہنچ گئی تاہم پانی کی سطح بلند ہونے کے باعث امدادی سرگرمیوں میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
سیکریٹری محکمہ اطلاعات عبدالرشید سولنگی کا کہنا ہے ڈوبنے والی فیملی کی تلاش کے لیے ایدھی کے رضا کار سرچ آپریشن میں جاری ہیں، متاثرہ خاندان کو مقامی افراد نے سیلابی پانی میں جانے سے منع کیا تھا لیکن تنبیہہ کو نظر انداز کرتے ہوئے ڈرائیور نے سفر جاری رکھا، ملیر ندی میں ڈوبنے والی کار کو ایدھی بحری خدمات کی ریسکیو ٹیم نے ڈھونڈ لیا کار میں موجود افراد کی تلاش جاری ہے۔
آج بھی ملیر ندی میں ڈوبنے والے 5 افراد کی تلاش کیلئے ریسکیو آپریشن پھر شروع کر دیا گیا جن کے ملنے کے کافی حد تک امکانات ہیں۔