اس عمر میں ماں بنتے ہوئے شرم نہیں آئے گی.. بیٹیاں غصے میں آگ بگولہ ہوگئیں! بڑھاپے میں اولاد کا پیدا ہونا معاشرے میں برا کیوں سمجھا جاتا ہے؟

image

"آپ کو اس عمر میں ماں بنتے شرم نہ آئی؟ لوگ ہم پر ہنسیں گے مذاق اڑائیں گے۔ جس عمر میں ماں باپ اپنے بچوں کی شادیاں کرتے ہیں اس عمر میں آپ خود ماں بن رہی ہیں"

اوپر دی گئی کلپ اگرچہ ایک ڈرامے کی ہے جس میں جوان بیٹیوں کی ماں کو حاملہ دکھایا گیا ہے۔ بیٹیوں کو جیسے ہی یہ خبر ملتی ہے وہ ماں پر برس پڑتی ہیں۔ باپ سے الگ ناراض ہیں۔

یہ مسئلہ صرف ڈرامے تک محدود نہیں بلکہ اکثر گھرانوں میں بچوں کے بڑے ہونے کے بعد اگر والدین دوبارہ ماں باپ کے عہدے پر فائز ہونے لگیں تو معاشرہ تو برا مانتا ہی ہے خود بچے بھی والدین سے جھڑنا شروع کردیتے ہیں۔

والدین بھی انسان ہوتے ہیں

بچوں کا اس سلسلے میں موقف یہ ہوتا ہے کہ بڑھاپے میں ماں باپ کے ہاں اولاد ہو تو دنیا ہنستی ہے، مذاق اڑاتی ہے، ان کے دوست طعنے دیتے ہیں اور وہ سماج میں شرمندہ ہو کر رہ جاتے ہیں۔ یہ کہتے ہوئے اولاد اس بات کو فراموش کردیتی ہے کہ ان کے ماں باپ بھی انسان ہیں اور اپنی زندگیوں پر ان کا بھی کچھ حق ہے۔ شادی شدہ جوڑے میں اولاد کی پیدائش مذہبی لحاظ سے کسی طور بھی جرم نہیں بھلے وہ کتنی ہی زائد عمر میں ہو۔

والدین کا احترام ہر عمر میں لازم ہے

سب سے بڑی بات اولاد اللہ کی دین ہے جس سے رب کسی بھی عمر میں نواز سکتا ہے۔ بحیثیت اولاد، ماں باپ کا احترام بڑے ہونے کے بعد بھی اسی طرح لازم ہوتا ہے جس طرح بچپن میں۔

اللہ کی نعمت اور معاشرے کا چلن

اولاد کے علاوہ معاشرہ بھی بڑی عمر کی خاتون کے ماں بننے پر طرح طرح کے طعنے کستا ہے۔ اس قسم کی غیر اخلاقی اور دل دکھانے والی باتیں کرنے سے پہلے یہ سوچ لینا چاہیے کہ اولاد رب کی نعمت پے جس سے وہ اپنے بندے کو نواز رہا ہے۔ اس نعمت پر لعن طعن کرنا اللہ کے غیض کو آواز دینے کے برابر ہے۔ معاشرے میں بے راہ روی کو ختم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ جائز کاموں میں رخنہ بازی سے گریز کیا جائے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US