کوبی جاپان کا پہلا شہر تھا جس نے مسجد کی تعمیر کو قبول کیا ۔ جس سے کوبی مسجد جاپان کی پہلی مسجد بنی۔ اکتوبر 1935 سے آج تک یہ کوبی شہر کے قلب میں مضبوطی سے اپنی جگہ قائم ودائم ہے۔ کوبی کا مطلب خدا کا دروازہ ہے۔ اس کو مختلف مسلمانوں کی تنظیموں نے چندہ کر کے تعمیر کیا تھا۔ جاپان میں اس کو معجزاتی مسجد کا نام بھی دیا گیا ہے۔ ایسا کیوں ہے اس کی وضاحت ہم آگے چل کر کریں گے۔
1935 میں اسے چیک جان جوزف سویگر نے تعمیر کیا جو مذہبی عمارتیں بنانے کے لیے مشہور ماہر تعمیرات تھے، انھوں نے جاپان میں اپنے قیام کے دوران تقریباً 21 عمارتیں ڈیزائن کیں اور ان میں سے ایک کوبی مسلم مسجد تھی، بعد ازاں وہ 1941 میں جنگ کی وجہ سے لاطینی امریکہ چلے گئے۔
مسلمانوں کی نظر میں معجزات:
کوبی شہر کے وسط میں واقع اس مسجد کو مسلمانوں نے خدا کی رحمت اور معجزہ قرار دیا ہے اس کی وجہ جاپان پہ گزرنے والے سانحات ہیں جس میں سب کچھ تباہ و برباد ہو گیا سوائے اس مسجد کے۔۔ اسی لئے وہاں کے مسلمان اسے معجزاتی مسجد کہتے ہیں۔
دوسری عالمی جنگ 1945 میں فضائی حملوں اور بمباری کے باوجود سلامت رہی:
پرل ہاربر سانحے کے بعد، امریکہ نے جاپان کوسبق سکھانے کا فیصلہ کیا اور ہیروشیما اور ناگاساکی پربم برسائے لیکن بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ باقی جاپان کو بھی فضائی حملوں کا سامنا کرنا پڑا اور ان میں سے ایک کوبی شہر بھی تھا ۔ مسجد بھی اس سانحے کی زد میں آئی، لیکن مسجد کے اردگرد کی کئی عمارتیں بم سے منہدم ہوگئیں، مسجد کی بیرونی دیواروں پر صرف کریک آئے اور کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ باقی مسجد اسی طرح سلامت رہی۔
جنگ کے دوران پناہ گاہ :
جنگ کے دوران فوجیوں نے کوبی مسجد کے اندر پناہ لی اور بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ جو فوجی مسجد میں تھے وہی بم دھماکوں میں بچ گئے، نہ صرف فوجی بلکہ جنگ کا شکار ہونے والے افراد نے بھی کوبی مسجد کو بطورپناہ گاہ استعمال کیا ۔
سیلاب بھی نقصان نہ پہنچا سکا:
1938 میں کوبی میں سیلاب آیا۔ جس نے بہت کچھ تباہ اور برباد کردیا لیکن یہ مسجد اسی طرح موجود رہی اور اللہ نے اس کی حفاظت کی۔
مسجد نے 1995 خوفناک زلزلے کو برداشت کیا:
اس خوفناک زلزلے میں 6,434 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ یہ 20ویں صدی کا جاپان کا بدترین زلزلہ تھا جب مسجد کے عملے سے پوچھا گیا تو عملے نے بتایا کہ زلزلے کے دوران اس مسجد کو زیادہ نقصان نہیں پہنچا۔ کوبی مسجد اب بھی اسی طرح قائم ہے۔