اس نوجوان نےکوئٹہ میں ایک ڈوبتے بچے کو بچانے کی کوشس میں اپنی جان قربان کردی۔
کمسن بچے کو مرنے سے بچانے والے نوجوان نے اپنی جان کی پرواہ نہ کی اور اپنی جان اللہ کو دے دی۔
اس نوجوان کا تعلق کوئٹہ سے تھا جس نے شہر کے ایک طغیانی نالے میں کچرا اٹھانے والے ڈوبتے بچے کو بچانے کی کوشش میں خود موت کو گلے لگا لیا۔
مذکورہ نوجوان کا نام بالاچ نوشیروانی بتایا گیاہے جو کم سن بچے کو بچانے کے لیے سیلابی کنویں کے اندر جاتا ہے۔ بس اسی دوران قسمت نوجوان کا ساتھ نہیں دیتی اور وہ اپنی جان گنوا بیٹھتا ہے۔ اس شخص کی پوسٹ سوشل میڈیا پر بہت وائرل ہورہی ہے۔
بالاچ نوشیرو کے ایک کزن بلاول نوشوروانی نے روتے ہوئے بتایا کہ بالاچ نوشیرو واپس نہیں آیا۔ انہوں نے کہا کہ بالاچ نے کم سن لڑکے کی جان بچاتے ہوئے اپنی جان قربان کردی۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ لواحقین، دوستوں اور اہل علاقہ نے اپنے طور پر کم سن بچے اور بالاچ کو بچانے کے لیے ریسکیو آپریشن طلب کیا۔ بلاول نے کہا کہ ہم نے 14 گھنٹے کی کوششوں کے بعد دونوں لاشیں نکال لیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کی ریسکیو ٹیم 3 گھنٹے بعد موقع پر پہنچی مگر وہ کچھ نہ کرسکی۔
اس دوران بلوچستان کے ضلع مستونگ سے تعلق رکھنے والے دو نوجوان جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔ جوانوں کی شناخت جلیل احمد شاہوانی اور امیر حمزہ شاہوانی کے ناموں سے ہوئی اور انہوں نے 14 گھنٹے کی مشقت کے بعد لاشیں نکال لی گئیں۔
جلیل شاہوانی نے بتایا کہ ہمیں لاشیں نکالنے کے لیے کنویں کے اندر ایک سنگین خطرے کا سامنا تھا۔ نوجوان کا کہنا تھا کہ کنویں کے اندر گھم اندھیرا تھا ار وہ پانی سے بھرا ہوا تھا۔
ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ کے ترجمان نے بتایا کہ صوبائی سربراہ نے دو نوجوانوں کو ڈی پی ایم اے میں ملازمت اور ان کے لیے دو دو لاکھ روپے کا اعلان کیا ہے۔