کچھ لوگ مذاق میں کہتے ہیں کہ کام ایسے کرو کہ کروانے والا بھی تنگ آ کر کہہ دے کہ “تم رہنے دو بھائی میں خود کرلوں گا“ البتہ کچھ ایسے بھی ہنر مند ہیں جو مذاق سے ہٹ کر حقیقت میں بھی ایسے کارنامے انجام دیتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ آج کے اس آرٹیکل میں آپ کو چند ایسے ہی نمونے دکھائے جارہے ہیں جن کا سر یا پیر اگر آپ کو سمجھ آجائے تو کمنٹ سیکشن میں ہمیں ضرور بتا دیجیے گا۔
پانی بیسن کے باہر ہی گرے گا
نل کے نیچے بیسن لگانے کا مقصد ہی یہی ہوتا ہے کہ استعمال کے وقت پانی نیچے نہ گرے اور نہ ہی کپڑے گیلے ہوں۔ لیکن اب اس بیسن کو لگانے والے کاریگر نے جانے کیا سوچ کر یہ فٹنگ کی ہے کہ نل کا پانی بجائے بیسن کے اندر گرنے کے باہر ہی گرے گا۔
کیا یہ ٹشو کچھ زیادہ دور نہیں رکھا؟
یورپ میں باتھ روم میں مسلم شاور کے بجائے ٹشو پیپر استعمال ہوتا ہے لیکن یہ کچھ زیادہ ہی تعجب کی بات نہیں کہ ٹوائلٹ سے اٹھ کر ٹشو لینے اتنی دور جانا پڑے؟
نل باتھ روم کے باہر کیا کررہے ہیں؟
شیشے کا باتھ روم تو کافی خوبصورت لگتا ہے مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ تمام نل اور شاور تو باتھ روم کے باہر لگے ہیں۔ اب نہانے والا شخص بھلا باتھ روم کے اندر کیسے نہائے؟
دروازہ کھل نہیں سکتا تھا
یہ ددوازہ جس عقلمند نے بھی لگایا ہے شاید وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ دروازے کھولے بھی جاتے ہیں۔ مجبوراً بعد میں گھر والوں کو فرش توڑ کر دروازہ کھولنے کے لئے جگہ بنانی پڑی۔