اعمال اچھے ہوں تو قبر بھی مہک اٹھتی ہے اور مرنے والا بھی اللہ کے حکم سے سکون کے ساتھ رہتا ہے۔
سوشل میڈیا پر ایسی کئی پوسٹ منظر عام پر آتی ہیں جو قبر سے متعلق ہوتی ہیں یا یہ دکھیا اور بتایا جاتا ہے کہ مردہ شخص قبر کے عذاب میں مبتلا ہے اور رات کو اکثر قبر سے آگ نکلتی دکھائی دیتی ہے۔
لیکن گذشتہ دو دن سے سوشل میڈیا پر ایسی پوسٹ وائرل ہو رہی ہے جس نے دیکھنے والوں کو حیران کردیا ہے۔ مذکورہ پوسٹ مشہور فیسبک گروپ ایمپیتھی پاکستان (Empathy Pakistan) پر شئیر کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ایک شخص جس کی وفات 32 سال پہلے ہوئی تھی مگر دیکھنے میں آج بھی ایسا لگتا ہے کہ جیسے سو رہا ہو۔
اس پوسٹ پر سوشل میڈیا اپنے اپنے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں۔ کچھ صارفین کا کہنا ہے کہ ایسا ممکن نہیں ہوسکتا۔
گروپ ایڈمن نے لکھا کہ یہ وہ شخص ہے جس کی لاش ایک خطرناک سیلاب کے نتیجے میں قبرستان سے برآمد ہوئی جو بے کفن ہوگئی ہے۔ مگر یہ شخص برسوں پہلے مر چکا ہے۔
ایک اور صارف لکھتے ہیں کہ یہ درست نہیں کیونکہ مردہ جسم کو دفنانے کے فوراً بعد گلنا شروع ہو جاتا ہے، یہ قدرتی بایوڈیگریڈیبل عمل (Natural Biodegradable process) ہے۔
اس شخص کے بارے میں مزید تفصیلات نہیں بتائی گئیں لیکن فیسبک گروپ کی معلومات کے مطابق یہ پتہ چلا ہے کہ یہ بوڑھا شخص کئی سال پہلے مرچکا ہے۔
اگر ایسا حقیقت میں ہوا ہے تو بلاشبہ رب اپنے اس بندے پر بہت زیادہ مہربان ہے۔