کروڑوں کی بس کو آگ لگا دی ۔۔ کیا پاکستانی اپنا آپا کھوتے جا رہے ہیں؟ مجبوری میں گھرے شہریوں نے اپنا ہی آشیانہ جلا ڈالا

image

مہنگائی اور معاشی مسائل سے عوام اس حد تک تنگ آ چکے ہیں کہ اپنی گاڑیوں اور دیگر اشیاء کو آگ لگا رہے ہیں۔

ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو اسی حوالے سے بتائیں گے۔

اپنا ہی رکشہ جلا دیا:

سوشل میڈیا پر تصاویر کافی وائرل ہیں جس میں رکشہ ڈرائیور نے اپنا ہی رکشہ جلا دیا، پہلے تو لوگوں کو یوں معلوم ہوا کہ یہ شاید یہ شخص روڈ کو بلاک کر کے احتجاج کرے گا، اور شروعات می ہوا بھی کچھ یوں ہی۔

لیکن صورتحال آہستہ آہستہ تبدیل ہوتی گئی، 2017 کا واقعہ بھی سب کی توجہ کا مرکز بن گیا تھا جب ڈرائیور نے محض چالان کاٹنے پر ٹریفک پولیس اہلکار کے خلاف بطور احتجاج اپنا ہی رکشہ جلا ڈالا۔ جی پی او چوک پر غریب رکشہ ڈرائیور کا موقف تھا کہ غلط چالان اور ظلم کے خلاف آواز اسی طرح اٹھا سکتا ہوں۔

کمزوز کی آواز کوئی سننے والا ہی نہیں تھا، اس حد تک مشکلات سے دوچار تھا کہ مجبور ڈرائیور نے اپنا ہی رکشہ جلا ڈالا۔ دراصل یہ نفسیاتی مسئلہ ہے جس میں جب ایک شخص ہر طرف سے خود کو دباؤ میں پاتا ہے تو خود بھی آپا کھو دیتا ہے اور کچھ ایسا کرتا ہے جسے خود اس پر بھی قابو نہیں ہوتا ہے۔

اپنی ہی بس جلا دی:

سوشل میڈیا پر ایک ایسی تصویر بھی کافی وائرل ہوئی جس میں بس مالک نے اپنی کروڑوں روپے کی بس کو نزر آتش کر دیا۔ بلوچستان کے علاقے وندر میں ایک چیک پوسٹ کے سامنے ٹرانسپورٹر نے اپنی ہی بس کو آگ لگا دی۔ بس کو نزر آتش کرتے وقت بس مالک افسردہ بالکل بھی نہیں تھا بلکہ چہرے پر غصہ تھا اور برداشت کی وہ حد ختم ہونے کے تاثرات تھے جو کہ اب آتش فشاں کی صورت میں باہر آ رہی تھی۔

بس مالک حاجی داد محمد اچکزئی کا کہنا تھا کہ 2016 کے ماڈل کی اس بس کی قیمت ڈیڑھ کروڑ روپے تھی۔ جبکہ انہوں نے الزام عائد کیا کہ وہ کوسٹ گارڈ کے عملے سے تنگ آ گئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ بس کو آگ لگانے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا۔ بسوں میں جو لوگ سفر کرتے ہیں، ان پر یہ لوگ اعتراض کرتے ہیں، بس مالک کی جانب سے مزید کہا گیا کہ یہ مسافر افغان اور ازبک ہیں، انہیں مت اٹھاؤ۔

اس حوالے سے کوسٹ گارڈ کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ رکنے کی صورت میں بی بی سی کو بتایا کہ بس مالک کی جانب سے لگائے گئے الزامات غلط ہیں، جبکہ اس حوالے سے جلد پریس ریلیز جاری کی جائے گی۔

اپنا رکشہ اور پولیس اہلکار کی موٹر سائیکل جلا دی:

لاہور میں ایک اور واقعہ ایسا پیش آیا جب ٹریفک پولیس کے چالان کے بعد رکشہ ڈرائیور نے اپنے رکشے کو تو آگ لگائی ہی ساتھ ہی پولیس اہلکار کی بائیک کو بھی آگ لگا دی۔

لوہاری گیٹ کے قریب اہلکار نے 2 ہزار روپے کا چالان کاٹا، جس پر ڈرائیور نے اپنے رکشے اور اہلکار کی بائیک کو بھی نزر آتش کر دیا۔

رکشہ جلا دیا:

سوشل میڈیا پر ایک ایسی ویڈیو بھی وائرل ہے جس میں ایک رکشہ ڈرائیور اپنے ہی رکشے پر پیٹرول چھڑک کر آگ لگا رہا ہے، اگرچہ یہ شخص اُس وقت شدید تکلیف میں تھا، لیکن کا مطلب یہ بالکل بھی نہیں کہ اپنی ہی کسی چیز کو تکلیف پہنچائی جائے، کیونکہ اس سے آگے چل کر تکلیف خود انہی کو ہونا ہے۔

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک نہیں بلکہ دو رکشوں کو آگ لگائی جا رہی ہے، رکشہ مالکان اس سب میں بے بس ہیں کیونکہ ان کے گھر کا چولہا اس مہنگائی میں چل ہی نہیں پا رہا ہے۔ ایسے میں جب گھر جاتے ہیں تو یا تو بچے اس نظر سے دیکھتے ہیں کہ والد کھانے کو کچھ لایا ہے اور بیوی بھی امید لگائے انہی نظروں سے تک رہی ہوتی ہے۔

لیکن جب مشکلات بڑھ جائیں تو ایک انسان اس حد تک مجبور جاتا ہے کہ اسے ایسا قدم اٹھانا پڑ ہی جاتا ہے جیسا اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے۔

اب تک ایسے کئی واقعات پیش آ چکے ہیں جس میں پاکستانیوں نے صبر کا پیمانہ لبریز ہونے پر خود اپنی ہی چیزوں کو آگ لگانا شروع کر دی، یہ بھی ناانصافی ہے کہ کمزور مزید کمزور ہو رہا ہے اور طاقتور مزید طاقتور۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US