پاکستان میں ایسے کئی مقامات ہیں جو کہ اپنے تاریخی دور کی وجہ سے سب کی توجہ حاصل کر لیتے ہیں، لیکن ان میں سے بیشتر مقامات ایسے ہیں جن کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو اسی حوالے سے بتائیں گے۔
پنجاب کے شہر جہلم میں واقع قلعہ روٹھاس اپنے دلچسپ انداز اور اس میں موجود ایک خاص شخص کی قبر کی وجہ سے جانا جاتا ہے، لیکن اس قلعے کا ایک دروازہ ایسا بھی ہے جو کہ سہیل دروازے کے نام سے جانا جاتا ہے۔
سجاد گیلری نامی یوٹیوب چینل کی جانب سے اس مقام کا دورہ کیا گیا اور ویڈیو کی صورت میں ناظرین کو اس مقام کی اہمیت کے بارے میں بتایا۔
شیر شاہ سوری کے دور میں بننے والے اس قلعے میں کی خاص بات یہ بھی ہے کہ یہ قلعہ کافی بڑا اور وسیع ہے۔ لیکن اب یہ قلعہ نہ صرف ایک سیاحتی مقام بن چکا ہے بلکہ معلومات کے حوالے سے بھی توجہ حاصل کر رہا ہے۔
یہاں موجود سہیل دروازے کی خاص بات یہ بھی ہے کہ اونچائی میں کافی لمبا اور چوڑائی میں بھی بڑا یہ دروازہ پرانا تو ہے ہی لیکن نقش و نگاری میں بھی اپنی مثال آپ ہے۔ اس گیٹ کے اوپر ہی ایک میوزیم بھی موجود ہے جہاں عام عوام کا داخلہ ممنوع ہے۔
شیر شاہ سوری کی فوج میں افغان، بلوچ سمیت کئی لوگ شامل تھے، انہی میں سے ایک تھے سہیل خان غازی۔ ان کی قبر اسی قلعے میں موجود ہے۔ سالار لنگر علی خان کے بیٹے سہیل خان غازی کے کارناموں کی بنا پر ان کے نام دروازوں سے منسوب کیے گئے۔
سہیل غازی کی یہ قبر تہہ خانے کی طرح کا بنے ایک کمرے میں موجود ہے۔ جہاں سورج کی روشنی دور دور تک نہیں ہے۔ ان کی قبر کے کتبے پر بھی لکھا کہ بلند پایہ عالم دین۔
اس قلعے پر آنے والے اللہ کے بزرگ کے مزار پر حاضری ضرور دیتے ہیں۔