گذشتہ دنوں پاکستان کے صوبے بلوچستان، سندھ اور خیبرپختون خواہ میں سیلاب سے تباہی سب نے دیکھی جس میں کئی انسانی جانیں ضائع ہوگئیں۔
اس سیلابی صورتحال نے کئی سوالات کھڑے کیے ہیں جن میں ایک سوال خیبر پختون خواہ کے علاقے کوہستان کے مقام پر گلگت بلتستان کو راولپنڈی اسلام آباد سے ملانے والا اہم ترین پل بھی خطرے سے متعلق ہے کہ کیا اُس پل کی تعمیر معیاری ہے بھی یا نہیں؟
مذکورہ پُل گلگت بلتستان اور راولپنڈی کے مابین زمینی رابطے کا سب سے اہم ترین ذریعہ ہے، اس اہم زمینی رابطے کے پل کے 2 پلرز سیلاب کی زد میں آنے کا شدید خطرہ لاحق ہے۔
تحصیل پٹن اور داسو کے درمیان بنے اس پل کے دونوں ستونوں کی بنیادیں کھوکھلی اور کمزور ہو گئی ہیں۔
کوہستان کا یہ پل بنانے والوں پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ یہ پل کب تک اپنی جگہ کھڑا رہ سکتا ہے۔ اگر کوہستان کا یہ بریج کسی بڑے سیلابی ریلے کی زد میں آگیا تو مقامی افراد کے لیے سنگین خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔
ایک ویب سائٹ کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر محمد ثاقب نے کہا کہ پل کی جلد مرمت کے لیے این ایچ اے (نیشنل ہائی وے اتھارٹی) کو خط لکھ چکے ہیں۔
دوسری جانب این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں بارشوں اور سیلاب سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 1 ہزار 33 ہوگئی، 110 اضلاع میں 57 لاکھ 73 ہزار افراد سیلاب سے متاثر ہیں۔
این ڈی ایم اے کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مجموعی طور پر 950,000 مکانات، 3451 کلومیٹر سڑکیں اور 149 پلوں کو نقصان پہنچا ہے۔