قدرتی آفات میں سیلاب سب سے خطرناک چیز ہے جس میں کئی انسانیں جانیں چند سیکنڈز میں ضائع ہوجاتی ہیں۔ حالیہ دنوں میں پاکستان کے صوبہ خیبرپختون خواہ میں جو غیر معمولی بارشوں اور خوفناک سیلاب نے جو تباہی مچائی اس نے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
اب جیسا کہ اس حوالے سے ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کالام میں جس جگہ پر ہنی مون ہوٹل بنایا گیا تھا جسے سیلاب نے چند سیکنڈز میں ڈھیر کردیا تھا تو کیا سرکاری افسران، ٹھیکیداروں اور حکمران اس کے ذمہ دار ہیں؟
سوشل میڈیا پر یہ بحث جاری ہے کہ پاکستان کے شہر کالام میں موجود ہنی مون ہوٹل دریا کے کنارے کس کے حکم پر تعمیر کیا گیا تھا؟
نیو ہنی مون ہوٹل کالام کے سب سے بڑے اور مہنگے ترین ہوٹلوں میں سے ایک ہے۔ خیبرپختونخواہ کے مختلف علاقوں میں جاری موسلا دھار بارشوں کے باعث سوات، دیر اور ڈیرہ اسماعیل خان کے اضلاع میں طوفانی بارشوں نے مکانات اور فصلوں کو نقصان پہنچایا، سڑکیں بند ہوگئیں اور بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی۔
خوش قسمتی سے واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا کیونکہ 24 اگست کو ہوٹل کے مہمانوں اور عملے کو نکال لیا گیا تھا۔ سول رائٹس 021۔ بلاگ اسپاٹ کے مطابق فن تعمیر اور متعلقہ قوانین سے آگاہی نہ ہونے کے باعث تاجروں اور عام لوگوں نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں گھر اور کاروباری مراکز بنانا شروع کر دیے تھے۔
سول رائٹس 021۔ بلاگ اسپاٹ نے اپنے بلاگ میں لکھا ہے کہ زرمت اللہ خان شنواری نے کالام میں دریا کے کنارے نیو ہنی مون ہوٹل کے نام سے نیا ہوٹل تعمیر کیا۔ اس سے قبل ان کا سو کمروں کا ہوٹل 2010 کے سیلاب میں تباہ ہو گیا تھا جس کے باعث انہیں 20 کروڑ روپے کا نقصان اٹھانا پڑا تھا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ دریا کے کنارے واقع ہنی مون ہوٹل زیادہ کاروبار کرتے ہیں اور اسی لیے انہوں نے سیلاب کے خطرے کے باوجود دوبارہ دریا کے کنارے پر نیا ہنی مون ہوٹل بنایا ہے۔
اب جیسا کہ کوہستان میں واقع پُل کی بات کی جائے جس کے 2 پلرز سیلاب کے باعث کسی بھی وقت گرنے کا خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کسی کے لیے بھی جانی نقصان کا سبب بن سکتے ہیں۔
دوسری جانب خیبر پختونخوا میں سوات اور لوئر دیر کے سیلابی ریلے میں منڈا ہیڈ ورکس کا پل بہہ گیا تھا، جس کے نتیجے میں ضلع چار سدہ کی تحصیل شب قدر اور تحصیل پڑانگ کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا تھا۔ یہاں کہیں نہ کہیں رہائشیوں کا بھی قصور تھا کہ جنہوں نے ایسی جگہوں پر اپنے گھر تعمیر کیئے جہاں سے سیلاب کا خطرہ زیادہ تھا۔
پھر مون سون کی شدید بارشوں کے نہ رُکنے والے سلسلے کے سبب دریائے سوات بپھر گیا، بحرین کے مقام پر سیلابی ریلہ کئی عمارتیں بہالے گیا جس سے کروڑوں روپے کا نقصان ہوا۔
اتنے نقصان کے بعد یہاں سوالوں کے انبار لگ جاتے ہیں جن کے لیے ان سرکاری افسران، ٹھیکیداروں اور حکمرانوں سے پوچھ گچھ ہونی چاہئیے جنہوں نے عمارتوں، بریج اور ہوٹلوں کو ایسی جگہ پر تعمیرات بنانے کی اجازت دی جہاں پہلے سے ہی سیلاب کا خطرہ موجود تھا۔ کیونکہ ذمہ دار وہی ہیں جو اس کی تعمیر کی اجازت دیتے ہیں۔