پاکستانی قوم پر جب بھی کوئی آفت آتی ہے پوری قوم مل کر یک جان ہو کر ایک دوسرے کی مدد کرتی ہے۔ اس وقت ملک بھر میں سیلاب کی تباہ کاریوں سے چھوٹا بڑا ہر شخص واقف ہے ہر کوئ اپنے طور پر سیلاب متاثرین کی مدد کر رہا ہے کوئی کپڑے دے رہا ہے تو کوئی مالی امداد کر رہا ہے۔ کل ہم نے دیکھا کہ ایک خاتون نے اپنے شوہ رکی دی گئی سونے کی انگھوٹی سیلاب متاثرین کی مدد کے لئے پیش کردی۔
ایسا ہی ایک اور واقعہ یش آیا جہاں ایک نوجوان محمد حسنین نے اپنی ایک قیمتی چیز متاثرین کی مدد کے لئے دے دی۔
حسنین کا تعلق ملیر کھوکھراپار نمبر 1 سے ہے جوکہ 20 سالہ نوجوان ہے۔یہ صبح کے 4 بجے جے ڈی سی آفس پہنچا اور سیلاب متاثرین کے لئیے ایک ٹرک لے کر آیا جس میں 84 چارپائیاں تھیں۔
جب حسنین نے ظفر عباس نے سوال کیا کہ یہ تمام انتظام بچے نے کیسے کیا تو اس نے بتایا کہ میری خالہ جنہوں نے شادی نہیں کی تھی ان خالہ کا انتقال ہوا تو ان کی جانب سے مجھے تحفے میں خیبر کار ملی تھی۔
میں نے سوچا کہ متاثرین سیلاب کے لئیے یہ کار کیسے کام آئے گی؟ تو آج ہی ظفر بھائی کی ایک ویڈیو دیکھی جس میں آپ نے جے ڈی سی پنو عاقل میں قائم جے ڈی سی خیمہ سٹی میں خیموں میں متاثرین کے لئے چارپائیاں خریدنے کا بتایا تھا۔
بس یہ سن کر ہم نے آج ہی اپنی گاڑی بیچی اور ان پیسوں کی چارپائیاں لے کر جے ڈی سی آگئے، آپ سب دعا کیجیے میری خالہ شمع آفریدی مرحومہ جن کی یہ کار تھی اللہ ان کی مغفرت فرمائے آمین
۔
اس سے بات صاف واضح ہے کہ کراچی والے ہر حال میں اپنے ملک کی خدمت کے لئے پیش پیش ہیں۔ یہ صرف وہ مثالیں ہیں جو سامنے آئی ہیں لیکن ابھی بھی کئی ایسے لوگ ہیں جو اللہ کے بندوں کی خدمت خاموشی سے کر رہے ہیں لیکن کسی کو معلوم بھی نہیں ہے۔