لگ بھگ تین دہائیوں کے بعد پہلی بار عالمی مرکزی بینکوں کے پاس موجود سونے کے ذخائر کی مجموعی مالیت امریکی ٹریژری بانڈز کی مالیت سے زیادہ ہو گئی ہے۔ سنہ 2025 میں سونے کے ذخائر کی مالیت تقریباً چار کھرب ڈالر تک پہنچ گئی جبکہ امریکی ٹریژری بانڈز کی مالیت 3.5کھرب ڈالر رہی۔
مختلف ممالک کے مرکزی بینکوں کی جانب سے گذشتہ مسلسل تین برس تک سالانہ ایک ہزار ٹن سے زائد سونا خریدا گیالگ بھگ تین دہائیوں کے بعد پہلی بار عالمی مرکزی بینکوں کے پاس موجود سونے کے ذخائر کی مجموعی مالیت امریکی ٹریژری بانڈز کی مالیت سے زیادہ ہو گئی ہے۔ سنہ 2025 میں سونے کے ذخائر کی مالیت تقریباً چار کھرب ڈالر تک پہنچ گئی جبکہ امریکی ٹریژری بانڈز کی مالیت 3.5کھرب ڈالر رہی۔
سنہ 2025 میں سونا یورو (کرنسی) کو بھی پیچھے چھوڑتے ہوئے امریکی ڈالر کے بعد دوسرا سب سے بڑا عالمی اثاثہ بن گیا ہے۔
عالمی سطح پر اس بڑی تبدیلی کا آغاز اُس وقت ہوا جب امریکہ نے سنہ 2022 میں یوکرین جنگ کے تناظر میں روسی اثاثے منجمد کیے جس کے بعد دنیا بھر کے مرکزی بینکوں نے بڑے پیمانے پر سونا خریدنا شروع کیا۔
مختلف ممالک کے مرکزی بینکوں کی جانب سے گذشتہ مسلسل تین برس تک سالانہ ایک ہزار ٹن سے زائد سونا خریدا گیا اور ستمبر 2025 تک، سونے کے انتہائی بلند قیمتوں کے باوجود، مزید 634 ٹن سونا ذخائر میں شامل کیا گیا۔
چینی ماہرین کے مطابق سونے کے ذخائر میں اضافہ مرکزی بینکوں کو ڈالر پر انحصار کم کرنے اور ڈالر سے منسلک خطرات کو قابو میں رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ ان ماہرین کے مطابق ڈالر کی کمزور ہوتی ساکھ کے تناظر میں بلند سونے کے ذخائر مجموعی مالیاتی استحکام کو سہارا فراہم کرتے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق ستمبر 2025تک چین کے سونے کے ذخائر اس کے کل بین الاقوامی ذخائر کا 7.6 فیصد، روس کے 41.3فیصد اور انڈیا کے 13.57 فیصد پر مشتمل تھے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ غیر یقینی معاشی صورتحال اور جغرافیائی کشیدگی کے باعث دنیا کے مرکزی بینک بتدریج ڈالر پر انحصار کم کر رہے ہیں اور سونے کے ذخائر بڑھا رہے ہیں جس سے عالمی مالیاتی نظام کو زیادہ متنوع کیا جا سکتا ہے۔
روس نے سنہ 2024میں ’برکس‘ کی صدارت کے دوران ’رکس کراس بارڈر پیمنٹ انیشی ایٹیو‘ کی تجویز دی، جس کا مقصد برکس رُکن ممالک کو اپنی قومی کرنسیوں میں تجارت کی سہولت دینا اور ڈالر پر انحصار کم کرنا تھا۔
ماہرین کے نزدیک یہ رجحان چینی کرنسی ’رینمنبی‘ کے وسیع تر بین الاقوامی استعمال کے نئے مواقع بھی پیدا کرتا ہے۔ چین کے بڑھتے ہوئے سونے کے ذخائر کو چینی کرنسی کے عالمی مالیاتی نظام میں بڑھتے کردار پر اعتماد کو مضبوط بنانے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یہ رپورٹ ورلڈ گولڈ کونسل، آئی ایم ایف اور پیپلز بینک آف چائنا کے اعداد و شمار پر مبنی ہے، جس میں برکس ممالک خصوصاً چین کے سونے کے ذخائر کے رجحانات کا تجزیہ کیا گیا ہے اور یہ واضح کیا گیا ہے کہ سونے کے ذخائر میں اضافہ رینمنبی (چینی کرنسی) کے وسیع تر استعمال کے مواقع فراہم کرتا ہے، تاہم اس کی مکمل بین الاقوامی حیثیت کے لیے یہ ابھی ناکافی ہے۔
برکس ممالک، خصوصاً چین اور روس کی جانب سے سونے کے ذخائر میں اضافہ کرنا کوئی نیا رجحان نہیں ہے۔ ان دونوں ممالک نے سنہ2008 کے عالمی مالیاتی بحران، جب امریکی بینکاری نظام کی کمزوریاں سامنے آئیں اور ابھرتی ہوئی معیشتوں نے ڈالر سے منسلک اثاثوں کے خطرات پر نظرثانی کی، کے بعد سے اپنے سونے کے ذخائر بڑھانا شروع کیے۔
تاہم روس اور چین کے اس ضمن میں طریقہ کار مختلف رہے۔ روس نے بڑے پیمانے پر مسلسل سونا خریدنے کی پالیسی اپنائی، جس کا عروج سنہ 2022میں یوکرین پر حملے اور مغربی پابندیوں کے بعد دیکھا گیا۔
اس کے بعد روس کے ذخائر تقریباً جمود کا شکار رہے اور سنہ 2025 میں اطلاعات کے مطابق اس نے بجٹ خسارے کو پورا کرنے کے لیے اپنے سونے کے ذخائر کا کچھ حصہ فروخت کیا۔
چین کے بڑھتے ہوئے سونے کے ذخائر کو چینی کرنسی کے عالمی مالیاتی نظام میں بڑھتے کردار پر اعتماد کو مضبوط بنانے کے طور پر دیکھا جا رہا ہےچین کی جانب سے اس حوالے سے دوسری حکمت عملی اپنائی گئی۔
پیپلز بینک آف چائنا نے عموماً سونے کی خریداری اُس وقت کی جب جب اس کی قیمتیں کم ہوئیں۔ چین کی سب سے بڑی سالانہ خریداری سنہ 2015 میں کی گئی تھی جب اس نے مجموعی طور پر708.22 ٹن سونا خریدا۔ یہ اقدام امریکی فیڈرل ریزرو کے سنہ 2013 کے اُس اعلان کے بعد سامنے آیا تھا کہ وہ بانڈز کی خریداری کم کرے گا جسے ’ٹیپر ٹینٹرم‘ کہا جاتا ہے۔
سنہ 2023 کے بعد چین نے اپنے سونے کے ذخائر بڑھانے کی رفتار کم کر دی لیکن محدود پیمانے پر خریداری جاری رکھی، جس سے چین کی جانب سے سونے کی خریداری کے حوالے سے طویل المدتی تسلسل برقرار رکھنے کا عندیہ ملا۔
انڈیا نے سنہ 2018 میں بتدریج اپنے سونے کے ذخائر بڑھانا شروع کیے۔ روس اور چین کے برعکس، جنھوں نے ڈالر سے جان چھڑانے کی غرض سے امریکی قرضوں میں سرمایہ کاری کم کر دی، انڈیا نے سنہ 2024تک امریکی ٹریژری بانڈز میں بھاری سرمایہ کاری جاری رکھی تاکہ اپنی ترقی پذیر معیشت میں آنے والے اضافی غیر ملکی سرمایہ کو جذب کر سکے۔
تاہم سنہ 2026کی ابتدا میں انڈیا نے اپنی ٹریژری ہولڈنگز میں21فیصد کمی کر دی اور سونے سمیت غیر ڈالر اثاثوں میں سرمایہ کاری بڑھا دی تاکہ عالمی مالیاتی خطرات کے خلاف تحفظ حاصل کیا جا سکے۔
عالمی ذخائر کے سونے کی طرف منتقل ہونے اور ڈالر سے انحصار کم کرنے کے رجحان کے دوران روس نے ’برکس‘ اتحاد کے اندر قیمتی دھاتوں کی ایک نئی ایکسچینج قائم کرنے کی تجویز دی، جو مغربی پلیٹ فارمز جیسے لندن میٹل ایکسچینج کا متبادل ہو اور تجارت کو پابندیوں سے محفوظ رکھے۔
تاہم سنہ 2025میں برازیل میں ہونے والی برکس سربراہی اجلاس تک اس تجویز پر کوئی ٹھوس پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
اس کی ایک ممکنہ وجہ چین کا موجودہ سونے کی منڈی کا ڈھانچہ ہے۔ چین پہلے ہی چینی کرنسی ’رینمنبی‘ پر مبنی شنگھائی گولڈ ایکسچینج اور ہانگ کانگ میں ایک تصدیق شدہ بُلیِن والٹ چلا رہا ہے۔ ہانگ کانگ میں بین الاقوامی گولڈ ٹریڈنگ سینٹر قائم کرنے کے منصوبے کے ساتھ، چین کے لیے زیادہ عملی یہی ہے کہ وہ عالمی بُلیِن مارکیٹ میں اپنے قائم شدہ کردار کو استعمال کرے بجائے اس کے کہ ایک نئی برکس ایکسچینج بنائے۔
روس سنہ 2022 سے برکس کے اندر باسکٹ پر مبنی ریزرو کرنسی کا سب سے پُرجوش حامی رہا ہے، تاہم یہ خیالات ابھی تک صرف بحث کی سطح پر ہیں۔
وسیع تر تناظر میں، برکس کے اندر ہم آہنگی معاشی ترقی، پالیسی ترجیحات اور خارجہ تعلقات کے فرق سے محدود ہے۔ یہ خاص طور پر مقامی کرنسیوں میں تجارت کو بڑھانے کی کوششوں میں نمایاں ہے، جو تجارتی توازن اور کرنسی کی لیکویڈیٹی پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہیں۔
انڈیا اور چین کے درمیان 102.5 ارب ڈالر کا تجارتی خسارہ اس مسئلے کو واضح کرتا ہے۔ اگر دو طرفہ تجارت روپے میں طے کی جائے تو چین کے پاس ایک غیر بین الاقوامی کرنسی کے بڑے ذخائر جمع ہو جائیں گے جس کے استعمال کے محدود راستے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اس نوعیت کا بندوبست چین کے لیے پرکشش نہیں۔
چین تیزی سے یوان میں اجناس کی تجارت کرنے کی کوشش کر رہا ہےبرکس سے آگے بڑھتے ہوئے چین مسلسل اپنی مالیاتی ڈھانچے کو جدید بنا رہا ہے تاکہ رینمنبی کے سرحد پار استعمال کو وسعت دی جا سکے۔ چین کی ایک بڑی پیش رفت ’ایم برج‘ ہے، جو بلاک چین پر مبنی مرکزی بینک ڈیجیٹل کرنسی (CBDC) پلیٹ فارم ہے۔
یہ منصوبہ ہانگ کانگ، تھائی لینڈ، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے مرکزی بینکوں کے ساتھ مل کر تیار کیا گیا ہے اور سنہ 2024 کے وسط میں اپنے ابتدائی عملی مرحلے (Minimum Viable Product) تک پہنچ گیا۔
چین کے سونے کے ذخائر نے رینمنبی کی استحکام اور اعتبار کے بارے میں تاثر کو مزید مضبوط کیا ہے۔ سنہ 2009 میں رینمنبی کے بین الاقوامی استعمال کے پروگرام کے آغاز کے بعد پیپلز بینک آف چائنا نے 32 دو طرفہ کرنسی تبادلہ معاہدے کیے، جن کی مجموعی مالیت تقریباً 4.5 کھرب یوان ہے۔
اِن میں سے نصف معاہدے ایشیائی معیشتوں کے ساتھ ہیں۔ ان شراکت داروں میں سے 15 بنیادی طور پر چین کے ساتھ اجناس کی تجارت کرتے ہیں جبکہ آٹھ چین پر مرکوز پیداواری سپلائی چین کا حصہ ہیں۔
امریکی ڈالر کی عالمی ریزرو کرنسی کے طور پر بالادستی کو بڑھتی ہوئی چیلنجز کا سامنا ہے اور ممالک عالمی اجناس کے حصول کے لیے زیادہ شدت سے مقابلہ کر رہے ہیں۔ ایسے میں چین تیزی سے یوان میں اجناس کی تجارت کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
چین نے اپنی آف شور رینمنبی انفراسٹرکچر کو بھی وسعت دی ہے۔
اگست 2025 تک پیپلز بینک آف چائنا نے 33 ممالک میں 35 غیر ملکی رینمنبی کلیئرنگ بینکوں کو اجازت دی جو زیادہ تر بڑے تجارتی شراکت داروں تک محیط ہیں۔ صرف سنہ 2024 میں ان کلیئرنگ بینکوں نے 937.6 کھرب یوان کے لین دین کیے، جو سال بہ سال 47.3 فیصد کا اضافہ تھا جبکہ سرحد پار رینمنبی وصولیاں اور ادائیگیاں 64.1 کھرب یوان تک پہنچ گئیں جو سالانہ بنیاد پر 23 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔
علاقائی سطح پر سنہ 2024 میں آسیان اور یورپ نے چین کے ساتھ رینمنبی میں 8.9 کھرب یوان کے لین دین ریکارڈ کیے۔ تاہم آسیان کی شرحِ نمو کہیں زیادہ رہی، جو 50.7 فیصد تھی جبکہ یورپ میں یہ صرف 13.1 فیصد رہی۔
چین کا کراس بارڈر انٹربینک پیمنٹ سسٹم، جو سنہ 2015 میں شروع ہوا، نے سنہ 2024 کے اختتام تک تقریباً 600 کھرب یوان کے مجموعی لین دین کو پراسیس کیا۔
ان کامیابیوں کے باوجود رینمنبی کا عالمی کردار محدود ہے۔
سنہ 2024 میں یہ عالمی زرمبادلہ کے ذخائر کا صرف 2.06 فیصد تھا اور نومبر 2025 تک عالمی ادائیگیوں میں اس کا حصہ صرف 2.94 فیصد رہا۔ کرنسی کی بین الاقوامی حیثیت عام طور پر تجارت میں استعمال، ذخائر کی حیثیت، قیمتوں کے تعین کے افعال اور سرمایہ کاری و مالیات میں قبولیت سے جانچی جاتی ہے۔
اگرچہ چین کی معاشی وسعت اور تجارتی غلبہ مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں لیکن رینمنبی اب بھی مالیاتی منڈیوں کی کھلی حیثیت، گہرائی اور پالیسی کی پیش بینی کے اعتبار سے بڑی بین الاقوامی کرنسیوں سے پیچھے ہے۔
چین کے بڑھتے ہوئے سونے کے ذخائر نے رینمنبی پر اعتماد کو مضبوط کیا ہے اور اس کی بین الاقوامی حیثیت کے لیے زیادہ سازگار حالات پیدا کیے ہیں۔ تاہم حقیقی بین الاقوامی کرنسی کا درجہ حاصل کرنے کے لیے بالآخر سرمایہ اکاؤنٹ کی آزادی ضروری ہے۔
دنیا کی دوسری بڑی معیشت کے طور پر چین بتدریج مالیاتی کھلے پن کی طرف بڑھ رہا ہے، لیکن اس کی ترجیح رینمنبی کو تجارتی لین دین اور سرحد پار ادائیگیوں میں استعمال بڑھانے پر ہے نہ کہ عالمی زرمبادلہ کے ذخائر میں اس کا حصہ وسیع کرنے پر۔ بعد والا قدم سرمایہ اکاؤنٹ کی مکمل آزادی اور کرنسی کی مکمل قابلِ تبادلہ حیثیت کا تقاضا کرتا ہے، جس سے بیجنگ گریز کرتا ہے۔