بارش کے بعد اکثر نزلہ زکام اور بخار کا وائرل پھیل جاتا ہے جس سے تقریباً سب ہی متاثر ہوتے ہیں کیونکہ یہ ہڈیوں میں بھی تکلیف پیدا کرتا ہے۔ اس سے ہر بدلتے موسم کے ساتھ بچے اور بڑے بیمار پڑنے لگتے ہیں۔ لیکن اس وقت ملک کو سیلاب کی وجہ سے بیماریوں کا بڑا خدشہ لاحق ہے ۔
سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں متاثرین کے پاس بیت الخلاء کی سہولیات بھی دستیاب نہیں اور سیلابی پانی میں نہ صرف انسانی فضلہ موجود ہے بلکہ مردہ جانوروں کی گندگی اور ان کی باقیات بھی شامل ہیں، جس سے ملک بھر میں سنگین بیماریاں ہونے کا امکان ہے۔
پانی سے پھیلنے والی بیماریوں کو " واٹر بون ڈیزیز" کہا جاتا ہے اور اس سے متاثر ہونے والے لوگوں کو اگر وقت پر طبی امداد نہ دی جائے تو موت بھی واقع ہوسکتی ہے۔
پانی سے ہونے والی بیماریاں:
ہیضہ
ہیضہ جسے گیسٹرو بھی کہا جاتا ہے جو مون سون میں ہونے والی ایک خطرناک بیماری ہے۔ یہ خراب کھانوں، گندے پانی اور گندگی کے باعث پھیلتا ہے۔ اس میں جسم سے بہت زیادہ پانی کا ضیاع اور پٹھوں میں کھچاؤ پیدا ہوجاتا ہے۔
اور جسم سے پانی اور نمکیات کی کمی ہوتی ہے۔ جس کا علاج فوری نہ کیا جائے تو یہ 1یک ہفتے میں ہی مریض کو بسترِ مرگ پر پہنچا دیتا ہے۔
ڈائریا
یہ
بیماری گندے اور صاف پانی دونوں کی وجہ سے پھیلتی ہے جس میں
بار بار باتھ روم جانا، آنتوں میں بہت زیادہ حرکت کرنا، پاخانہ کرنا شامل ہیں۔ اس کی وجہ سے جسم اچانک ہی کمزور ہو جاتا ہے اور مریض خود کو نڈھال سمجھنے لگتا ہے یہ بیماری اس وقت سیلاب متاثرین کے کیمپ میں سب سے زیادہ عام ہوچکی ہے۔
پیچش
پیچش ایسا مرض ہے جس میں آنتوں میں سوزش ہونے لگتی ہے اور پیٹ میں مروڑ اور متلی محسوس ہونے لگتی ہے ۔ اسہال میں خون اور چکناہٹ آنے لگتی ہے ۔ پیچش میں آنت کا جو حصہ سوجتا ہے اسے کولن کہتے ہیں ۔ یہ بچوں میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔
ٹائیفائڈ بخار
ٹائیفائیڈ بخار انتڑیوں کی ایک بیماری ہے جو ایک خاص قسم کے بیکٹیریا کی وجہ سے ہوتی ہے۔ اس میں لمبے عرصے تک ہلکا بخار اور سر میں درد ہوتا ہے۔
ٹائیفائیڈ بخار آنتوں کے خون اور پرفوریشن کا سبب بنتا ہے۔ جس میں پیٹ میں شدید درد، متلی، قے وغیرہ ہوتی ہے جو جراثیم سے پھیلتا ہے۔
اس بخار کا سبب جراثیم ’’ سیلمونیلا ٹائی فی ‘‘ ہے۔
پانی میں 12 سے 14 گھنٹے رہنے والے سیلاب متاثرین اس بیماری کا تیزی سے شکار ہو رہے ہیں خصوصاً حاملہ خواتین ۔۔
ہیپاٹائٹس اے (پیلا یرقان)
ہیپاٹائٹس اے کا شمار ان خطرناک وبائی بیماریوں میں ہوتا ہے جو جگر میں انفیکشن پیدا کرتی ہیں. آلودہ پانی اور کھانے کا استعمال اس بیماری کی بنیادی وجہ ہے اس میں آنکھوں، جلد اور پیشاب کا پیلا ہونا، معدے میں درد، بھوک کا ختم ہونا، متلی ہونا، بخار اور پتلے فضلے آنا شامل ہیں.
ڈینگی بخار
ڈینگی بخار یعنی ریڈھ کی ہڈی کا بخار صرف سیلاب زدہ علاقوں میں ہی نہیں بلکہ پورے ملک میں پھیل رہا ہے۔ ڈینگی مچھر اب پہلے سے بھی زیادہ مضبوط بن کر ابھرا ہے جس سے بڑے شہروں میں بھی 40 فیصد سے زائد لوگ مبتلا ہوچکے ہیں۔
ملیریا بخار
گندے پانی اور ناقص غذا کی وجہ سے ہپ بخار بھی سرگرم ہوچکا ہے اور بچوں کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔
انفلوئنزا (وبائی زکام)
موسمی نزلہ زکام سب ہی کو ہوتا ہے اور بارش کے بعد تو یہ بہت عام ہے۔ اس وقت اندرونِ سندھ کے 100 سے زائد کیمپوں میں موجود لوگ نزلے زکام کے مرض میں مبتلا ہیں۔