ایشیاء کپ کے میچز میں اب افغانستان وہ واحد ٹیم ہے جو کہ سخت مشکلات کا شکار بھی رہی اور ہار بھی ماننے کو تیار نہیں ہے، اس سب میں ٹیم کے کھلاڑی بھی خوب جم کر تیاری کر رہے ہیں۔
سوپر 4 کے پہلے مرحلے میں افغانستان اور سری لنکا مد مقابل آئے تھے، جس میں افغانستان کو سری لنکا نے دلچسپ مقابلے کے بعد 4 وکٹوں سے ہرا دیا۔ اگرچہ ایشیاء کپ کے گروپ اسٹیج میں افغانستان نے یکطرفہ مقابلے میں سری لنکا کو شکست دی تھی، تاہم اس بات سری لنکا کی باری تھی۔
اگرچہ افغانستان ہار گیا مگر بلے باز رحمان اللہ گرباز نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا، 6 چھکوں اور 4 چوکوں کے ساتھ 84 رنز کی عمدہ اننگز کھیلی، جبکہ ابراہیم زردان نے 38 گیندوں پر 40 رنز بنائے۔ لیکن دونوں کی جارحانہ بیٹنگ کا مومنٹم جب سری لنکن بالروں نے توڑا افغان بلے بازوں کی لائن لگ گئی، ایک کے بعد ایک آؤٹ ہوتا گیا۔
اس سب میں افغان بالنگ کے کافی چرچے تھے، لیکن یہ بالنگ سری لنکا کے خلاف میچ میں کافی مرجھائی ہوئی معلوم ہوئی۔ واضح رہے سابق پاکستانی بالر عمر گُل افغان قومی کرکٹ ٹیم کے کوچ کے طور پر ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔
ماہرین کرکٹ کا کہنا تھا کہ افغانستان کو سری لنکا کے خلاف میچ کسی بھی صورت جیتنا تھا، کیونکہ اگلے دو میچز پاکستان اور بھارت جیسی ٹیموں کے خلاف ہیں، جو کہ سری لنکا سے کچھ حد تک زیادہ طاقتور ہیں۔
صورتحال اس لیے بھی خطرناک ہے کہ پاکستان اور بھارت کے ساتھ میچز کے دوران افغان کھلاڑیوں کو آرام اور تیاری کا وقت نہیں مل پائے گا، کیونکہ 7 ستمبر کو پاکستان کے خلاف کھیلنا اور پھر 8 ستمبر کو بھارت کے خلاف یعنی ایک کمزور ٹیم کو دو مضبوط ٹیموں کے خلاف کھیلنا ہے، وہ بھی بنا کسی آرام کے۔