جن مرد و خواتین کی بغلوں سے پسینہ بہت زیادہ آتا ہو اور لباس پسینے کی وجہ سے گیلا ہوجاتا ہو اور اس میں سے بو آتی ہو، یا بال صاف کرنے والی کریم یا شیو کرنے سے بغلیں کالی ہو گئی ہوں، وہ پھٹکری کے پاؤڈر کو پانی یا عرق گلاب میں ملا کرپیسٹ بنالیں۔ اوراس پیسٹ کو بیس منٹ کے لئے لگا رہنے دیں، اس کا رزلٹ آپ کو بہت اچھا ملے گا۔ بغلوں سے بو نہیں آئے گی، اور بغلیں دوبارہ سفید ہوجائیں گی۔
گلے کی تکلیف یا ٹانسلز کا بڑھ جانا:
ٹانسلز یا گلے کے غدود کا بڑھ جانا ایک انتہائی تکلیف دہ مرض ہے جس کی سبب گلے میں درد کے سبب نہ صرف شدید تکلیف ہوتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ مستقل بخار بھی ہو جاتا ہے- اس مرض کا ایلو پیتھک میں آپریشن کے سو ا کوئی علاج نہیں ہے مگر اس بیماری کو پھٹکری کے استعمال سے فائدہ حاصل کیا جا سکتا ہے- اس کے لیے ایک چٹکی پھٹکری اور ایک چٹکی ہلدی کو نیم گرم پانی میں ایک گلاس میں ملا لیں اور اچھی طرح مکس کر کے دن میں تین بار اس سے غرارے کریں اس سے نہ صرف گلے کے بڑھے ہوئے غدود کی سوزش میں آرام ہو گا اور درد کم ہو گا۔-
غیر ضروری بالوں کی صفائی:
اگر خواتین اپنے جسم یا چہرے کے غیر ضروری بال ختم کرنا چاہتی ہیں تو پھٹکری کو عرقِ گلاب میں ملا کراس کا مکسچر بنالیں،اور اس جگہ لگائیں جہاں سے بال ختم کرنا ہوں،بیس منٹ تک لگا رہنے دیں۔جب یہ خشک ہوجائےتو اسے اتار دیں۔ بال بالکل صاف ہو جائیں گے۔
لٹکی ہوئی جلد:
جن لوگوں کی جلد ڈھیلی ہو کر لٹک گئی ہو ان کو اس کے حل کے لئے پھٹکری پاؤڈر کو پانی میں ملا کراس کا پیسٹ بنا لیں اور اس پیسٹ کوآدھا گھنٹہ چہرے پر لگا رہنے دیں۔اس کے بعد چہرہ دھو لیں۔ اس سے آپ کی جلد ٹائٹ ہو جاتی ہے ۔ اس پیسٹ کا رزلٹ اگر آپ مزید اچھا بنانا چاہتے ہیں تو پانی کی جگہ عرقِ گلاب یا انڈے کی سفیدی بھی استعمال کر سکتے ہیں۔
خارش:
خارش دو طرح کی ہوتی ہے، اور دونوں ہی صورتوں میںتکلیف دہ ہوتی ہے۔ ایسے میں پھٹکری جلا کر اس کی راکھ کو انڈے کی سفیدی میں ملا کرمساج کرنے سے ہر قسم کی خارش میں آرام آجاتا ہے۔
مسوڑھوں سے خون:
اس بیماری کو دور کرنے کے لئے تھوڑی سی پھٹکری کورات میں بھگو کررکھ دیں، اور صبح وہی پانی آپ اپنے مسوڑھوں پر لگائیں، تو مسوڑھوں سے خون آنا بند ہوجائے گا۔ اس کے علاوہ بیس گرام پھٹکری، دس گرام نمک میں ملا کر پیسٹ بنالیں۔ اس کو وقتاً فوقتاً مسوڑھوں پرمل لیں۔ اس سے مسوڑھے مضبوط ہوجائیں گے۔