لوگ کہتے ہیں تم تو مر گئی تھیں، زندہ کیسے ہوئی؟ کرین سے گرنے والی اینکر ارزا خان لوگوں کی باتوں سے پریشان ہو گئیں، دیکھیے

image

کئی بار ٹی وی پر میزبان کچھ ایسا کر جاتے ہیں جو کہ غیر معمولی ہوتا ہے، لیکن اس دوران وہ خود بھی مجبور ہوتے ہیں یا اپنے آپ پر قابو نہیں رکھ پاتے۔

ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو ایک ایسی ہی خاتون اینکر کے بارے میں بتائیں گے۔

ارزا خان پاکستانی نیوز چینلز میں بطور نیوز کاسٹر اپنی ذمہ داریاں نبھا چکی ہیں، کئی مشہور چینلز اے آر وائی، 92 نیوز میں بطور نیوز کاسٹرز مقبولیت حاصل کرنے والی ارزا خان نے اس وقت پورے پاکستان کی توجہ حاصل کی جب وہ کرین سے گر پڑی تھیں۔

2016 میں پاکستان تحریک انصاف کے لاہور کے جلسے کی کوریج کے لیے ارزا خان 92 نیوز کی نمائندہ کے طور پر گئی تھیں، کرین کے ذریعے کی جانے والے رپورٹنگ میں ارزا خان اونچائی پر موجود تھیں اور ناظرین کو صورتحال سے آگاہ کر رہی تھیں۔

اچانک کرین پر جھولتے ہوئے ارزا خان کو چکر آئے اور وہ کرین سے نیچے زمین پر گر پڑیں، چونکہ وہ اونچائی پر تھیں تو جب گریں تو زخمی بھی ہو گئی تھیں تاہم انہیں اسپتال طبی امداد کے لیے پہنچا دیا گیا تھا۔ اس کے بعد 2016 سے 2017 کے دوران ان کی ویڈیو وائرل ہوئی اور کچھ لوگ تو یہ تک کہہ گئے کہ پاکستانی اینکر کرین سے گر کر جہان فانی سے کوچ کر گئیں۔

لیکن اب ارزا نے باقاعدہ طور پر اس حوالے سے تذکرہ کیا کیونکہ ان کا ماننا تھا کہ وہ خوفناک لمحہ میرے لیے ایسا تھا جیسے میں نے موت کو قریب سے دیکھا تھا۔ اگرچہ یہ واقعہ 6 سال پہلے پیش آیا لیکن آج بھی انہیں خوف میں مبتلا کر دیتا ہے۔

لوگ اب بھی مجھے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ آپ تو مر گئی تھیں، یہ آپ کا بھوت تو نہیں۔ یہ باتیں سننا آسان نہیں، اسی لیے اس ویڈیو میں ساری کنفیوژن دور کرنا چاہتی ہوں۔

ارزا نے یہ ویڈیو اس لیے بھی بنائی تاکہ تمام غلط فہمیاں دور کر سکیں جیسے کہ میڈیا میں آنے والی لڑکیوں کا یہی انجام ہوتا ہے، ان کی زندگی خطرے میں ہوتی ہے۔

ارزا کا کہنا تھا کہ اس دن صبح سے ہی میری طبیعت خراب تھی، اگر میں اس دن رپورٹنگ کرنے سے انکار کر دیتی تو عین ممکن تھا چینل انتظامیہ پر میرا غلط تاثر جاتا۔ ارزا نے صحافی طارق متین سے کہا کہ میری طبیعت خراب ہے، مجھے لگ رہا ہے میں گر جاؤں گی، تو صحافی نے کہا کہ کوئی بات نہیں ہم تمہیں اٹھا لیں گے۔

اینکر نے جب پہلا سوال کیا تو میں نے صورتحال سے آگاہ کیا، مجھے لگا اب بریک ہوگی، مگر دوسرا سوال بھی اینکر نے شروع کر دیا، اسی دوران میں کچھ کر ہی نہیں پا رہی تھی کیونکہ کیمرہ آن ہے۔ اسی لیے میں نے دورسرے سوال کا بھی جواب دینا شروع کیا، اگرچہ میری آواز لرز رہی تھی۔

گرنے کے بعد جب میری آنکھ کھلی تو میں ایمبولینس میں تھی، مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا کہ میری ہڈی ٹوٹ گئی ہے، ارزا اس وقت شدید پریشان تھی۔ گنگا رام استپال تک جانے میں اتنا وقت لگ رہا تھا کہ وہ آدھا گھنٹہ میں صرف چیخ رہی تھی سوچ رہی تھی کہ اب شاید میں چل نہیں پاؤں گی، اللہ کا لاکھ شکر ہے کہ مجھے کچھ نہیں ہوا۔ لوگ کہتے ہیں کہ تمہارے ساتھ کوئی حفاظتی فرشتہ ہے، اور مجھے بھی ایسا ہی لگتا ہے۔

ڈاکٹرز نے بھی مجھے تسلی دی کہ معجزاتی طور پر مجھے کچھ نہیں ہوا، اگلے دن میں آفس بھی گئی اور کام بھی کیا۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US