سولہویں صدی میں ہندوستان پر شہنشاہ نورالدین جہانگیر کی حکومت تھی۔ شہنشاہ جہانگیر کی وجہ شہرت ایک جانب ان کا عدل و انصاف تھا تو دوسری جانب ان کی لاڈلی بیوی نورجہاں بھی تھیں جن کے حسن اور ذہانت نے مغل خاندان کی تاریخ پر گہری چھاپ چھوڑی ہے۔
بہت کم لوگ اس بات سے واقف ہیں کہ ہندوستان پر حکومت کرنے والے اس عظیم الشان شہنشاہ کی ایک نہیں 2 قبریں ہیں۔ یہ دنیا کے واحد بادشاہ ہیں جو بیک وقت 2 قبروں میں مدفن ہیں۔ اب آپ سوچ رہے ہوں گے بھلا یہ کیسے ممکن ہے تو چلیے آپ کو بتاتے ہیں۔ لیکن اس سے پہلے ہم یہ بھی بتا دیں کہ اس بات کے پیچھے بھی نورجہاں کی حکمت عملی چھپی ہوئی ہے۔
بیمار بادشاہ جسے ہوا بدلنے کے لئے کشمیر بھیجا گیا
مشہور یوٹیوبر افتخار احمد عثمانی نے اس موضوع پر ایک مفصل وی لاگ بنایا ہے جس میں انھوں نے شہنشاہ جہانگیر کی دونوں قبروں کی زیارت بھی کی ہے۔ اپنے وی لاگ میں افتخار احمد عثمانی تاریخ کے اوراق سے پردہ اٹھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ شہنشاہ جہانگیر کو بیماری کی وجہ سے شاہی طبیبوں نے کشمیر جانے کا مشورہ دیا جس کے بعد نورجہاں جو اس وقت ملکہ کے فرائض انجام دے رہی تھیں اپنے بیمار شوہر کے ساتھ کشمیر پہنچیں لیکن چند دن بعد جب ان کا دل وہاں نہیں لگا تو انھوں نے واپس جانے کا ارادہ کیا۔
ملکہ نے شوہر کا پیٹ چاک کرنے کا حکم کیوں دیا؟
قافہ راستے میں ہی تھا جب شہنشاہ کی طبعیت زیادہ خراب ہوئی اور ان کا انتقال ہوگیا۔ ملکہ نورجہاں جو بادشاہ کے مرنے کے بعد بغاوت سے بچنا چاہتی تھیں۔ انھوں نے یہ بات کسی کو نہ بتانے کی ٹھانی۔ نورجہاں نے حکم دیا کہ کوئی ان کے اور بادشاہ کے ہاتھیوں کی جانب نہ آئے۔ البتہ ایک دن بعد بادشہ کی لاش سے بدبو پھیلنے لگی جسے روکنا نورجہاں کے بس میں نہ تھا۔
شہنشاہ جہانگیر کی دوسری قبر
ملکہ نے شاہی طبیبوں سے مشورہ کیا کہ لاش کو بدبو سے بچانے کے لئے بادشاہ کا سینہ چاک کیا جائے اور دل، پھیپھڑہ اور آنتیں نکال کر راستے میں کسی جگہ دفن کردی جائیں۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔ کشمیر میں ایک جگہ بادشاہ جہانگیر کی وہ قبر آج بھی موجود ہے جہاں کئی صدیوں پہلے ان کی آلائشیں دفن کی گئی تھیں۔ اس کے بعد بادشاہ کے باقی جسم کو لاہور لا کر شاہدرہ کے مقام پر دفنایا گیا۔ یہ مقام دریائے راوی کے کنارے موجود ہے۔