پاکستان کے صوبی خیبرپختون خواہ کے علاقے چترال میں شادی کے نام پر دھوکہ کیا جارہا ہے اور ایسے واقعات تیزی سے جنم لے رہے ہیں۔
اسی دھوکہ دہی سے نمٹنے کے لیے چترال کی مقامی انتظامیہ نے نئی حکمت عملی مرتب کرلی ہے۔
ذرائع کے مطابق ترتیب دی جانے والی حکمت عملی ج چترالی لڑکیوں سے شادی کے خواہشمند غیرمقامی افراد کو رشتہ مانگتے وقت اپنا کریکٹر سرٹیفکیٹ بھی لازمی دکھانا ہوگا۔
گزشہ دنوں چترال سے تعلق رکھنے والی خواتین پر تشدد اور ظلم کے بڑھتے واقعات کی وجہ سے رشتے کے لیے آنے والے افراد کی تصدیق لازمی شرط میں شامل ہے۔
علاقے کے ایم پی اے وزیر زادہ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ایس او پیز کے تحت وہ نوجوان جو علاقے سے باہر کا ہوگا شادی سے قبل اپنے ڈسٹرکٹ کی پولیس سے کریکٹر سرٹیفکیٹ ساتھ لائیں گے جس کے بعد چترال کی انتظامیہ این او سی جاری کرے گی۔
ان کا مزید یہ کہنا تھا کہ اس کام پر عم درآمد کا مقصد مقامی لڑکیوں اور ان کی عزت کو شادی کے نام پر دھوکہ دہی جیسے واقعات سے محفوظ رکھنا ہے۔