پاکستان میں اس وقت ہر صوبہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کی کوششیں کر رہا ہے مگر نقصان اس قدر ہے کہ آگے بڑھنے کا موقع نہیں مل رہا۔ حکومتی اقدامات اور نجی تنظمیوں کی امداد بھی نقصان کی بھرپائی نہیں کر پا رہی وہیں ان تمام حالات کے ساتھ اس وقت حکومت کے لئے سب سے بڑا مسئلہ 7 لاکھ حاملہ خواتین کے لئے ہے جن کے ہاں جلد ہی بچے کی پیدائش متوقع ہے اور ڈیلیویری کے انتظامات یوں بروقت کرنا شاید آسان نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ آئے روز بچے تو پیدا ہو رہے ہیں لیکن وہ صحت کے مسائل میں گھرے ہوئے ہیں۔
سکھر میں سیلاب متاثرین کے کیمپ میں ایک خاتون کے ہاں بچے کی پیدائش ہوئی مگر والدین نے اس بچے کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔ سٹاف اور ڈاکٹروں نے خوب سمجھایا کہ یہ بچہ آپ ہی کا ہے لیکن والدین نے ایک نہ سنی۔
اس کے بعد وہ ڈاکٹر جنہوں نے بچے کی ڈیلیویری میں ماں کی مدد کی، انہوں نے اس بچے کو گود لے لیا۔ والدین کا کہنا ہے کہ ہم غربت اور بھوک کے باعث خود زندگی مشکل سے گزار رہے ہیں، بچہ کیسے گزارے گا؟ اس وجہ سے ہم بچے کو نہیں رکھ سکتے۔ جس پر ڈاکٹر افضل کا کہنا ہے کہ اب ہم بچے کو پھینک تو نہیں سکتے، لہٰذا میں اسے خود ہی گود لے رہا ہوں۔ میں ایک ڈاکٹر نہیں انسان بھی تو ہوں کیسے بچے کو یوں تڑپنے کے لئے چھوڑ سکتا ہوں۔