میں بہت مایوس ہوں ان کے رویے اور ان کے گندے لہجوں سے، یہ ہیں کیا، ہمارے یہاں آکر انہوں نے کرکٹ سیکھی انہیں لانے والے ہم ہیں، میں نے خود ان کی کوچنگ بھی کی۔ اور ان کا رویہ دیکھیں، ان کی زبان دیکھیں ، یہ کتنے بڑے ہیں۔ ابھی کرکٹ کھیلی نہیں ہے ان کے دماغ خراب ہوگئے ہیں ابھی سے، جیسے بہت بڑے سپر اسٹار بن گئے ہیں۔ پاکستان آج سے نہیں ہے پاکستان تو 20 سالوں سے کھیل رہا ہے۔ یہ کہنا تھا پاکستان کے لیجنڈری کرکٹرجاوید میاں داد کا جو کہ صحافیوں کے سوالوں کے جواب دے رہے تھے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ میں افغانستان کے کھلاڑیوں کی بدتمیزی سے بہت مایوس ہوا ہوں۔ اگر آپ مخلص ہوگے، عاجزی سے رہو گے تو آگے بڑھو گے ورنہ تم لفوٹر کرکٹ کھیلو گے۔ ایک سوال کے جواب میں کہ ورلڈ کپ میں بھی ان کے ساتھ ایک پریکٹس میچ رکھ دیا گیا ہے ان کے رویے کے حوالے سے تو اس کے بارے میں کیا رائے ہے۔ تو اس کا جواب جاوید میاں داد نے یہ دیا کہ اگر ہمیں ان کے رویے سے مسئلہ ہے تو ہم آئی سی سی کو منع کر سکتے ہیں کہ ہم ان کے ساتھ نہیں کھیلنا چاہتے۔ اور آئی سی سی کو بھی کوڈ آف کنڈکٹ دیکھنا چاہیے۔ جمعہ جمعہ آتھ دن کے تو یہ بچے ہیں، دو میچ ہار جائیں تو ان کی کرکٹ کہیں نظر نہیں آئے گی۔ ان کو ابھی تمیز سیکھنے کی ضرورت ہے، ایک دو میچ جیتنے سے آپ کوئی بڑی ٹیم نہیں بن جاتے۔ آپ جب بنتے ہیں جب آپ کا اخلاق اچھا ہو، آپ عاجزی اور انکساری سے رہیں، کرکٹ دو ملکوں کو ملاتی ہے انہیں لڑاتی نہیں ہے۔ آپ لوگ وہ حرکتیں کر رہے ہیں کہ آپ کو آئندہ پوچھا بھی نہ جائے، ہم نے آپ لوگوں پر جواحسانات کیے وہ آئندہ ہم کبھی نہیں کریں گے۔