پاکستانی کسی بھی میدان میں پیچھے نہیں ہیں، چاہے دنیا گھومنے کا موقع ہو یا پھر کھانے پینے کا مقابلہ، پاکستانی ہر جگہ شامل ہو ہی جاتے ہیں۔
لیکن ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو اس نوجوان کے بارے میں بتائیں گے جو سب کی توجہ حاصل کر گیا۔
پاکستان کے صوبے پنجاب کے شہر اوکاڑہ کا رہائشی 25 سالہ عثمان ارشد مکہ مکرمہ کے سفر پر نکل چکا ہے، ویسے تو سننے میں عام سی بات لگ رہی ہے، لیکن دلچسپ اس وقت ہو گئی جب عثمان نے اس سفر کا آغاز اوکاڑہ سے پیدل طے کرنے کا فیصلہ کیا۔
عثمان کو یہ خیال اس وقت آیا جب انہوں نے اوکاڑہ شہر سے خنجراب پاس تک کا سفر پیدل کیا، اس سفر میں عثمان کو تقریباً 34 دن لگے تھے۔ اسی سفر کے دوران عثمان کو مدینے اور مکہ پیدل سفر کا خیال آیا تھا۔
عثمان کا کہنا تھا کہ خنجراب پاس سے آنے کے بعد مجھے خیال آیا کہ یہ بہت اچھا آیڈیا ہو سکتا ہے۔ اور پھر طے کر لیا کہ پیدل مکہ سفر طے کرنا ہے۔ میں نے ممکنہ صورتحال کا جائزہ لیا اور سفر کا آغاز کر دیا۔
عثمان کے سفر کی شروعات 1 اکتوبر کو ہوئی تھی، حج سے کئی ماہ پہلے سفر پر نکلنے والے اس نوجوان حاجی کا کہنا تھا کہ پہلے اس لیے نکل رہا ہوں، تاکہ کویت، عراق اور ایران میں موجود مذہبی مقامات پر بھی حاضری دے سکوں، جبکہ آخری منزل حج بیت اللہ ہوگی۔
عثمان نے اوکاڑہ سے کوئٹہ کے درمیان خانیوال، ملتان، ڈیرہ غازی خان کے شہروں کا سفر طے کرنا ہے، جبکہ اس کے بعد اسے ایران، عراق، کویت سے ہوکر منزل مقصود تک پہچنا ہے، لیکن دیگر ممالک میں داخلے کے لیے عثمان کو ویزہ حاصل کرنا ضروری ہے۔
جس کے لیے وزارت خارجہ کی جانب سے 45 سے 50 دنوں کا وقت دیا گیا ہے، عثمان پُر امید ہے کہ اسے ویزہ مل جائے گا اور 2023 کا حج وہ کر کے رہے گا۔
دلچسپ بات یہ بھی کہ عثمان دوران سفر راستے میں ملنے والے شہریوں کی جانب سے کی جانے والی مہمان نوازی پر ہی منحصر ہوگا، جبکہ جہاں کہیں آرام میسر آیا، نیند پوری کرے گا، حج کی نیت سے جانے والے عثمان کو تقریبا 4 ماہ سے زائد کا عرصہ لگ سکتا ہے، جبکہ اس سب میں عثمان کا کہنا تھا کہ ساڑھے 10 لاکھ پاکستانی روپے لگ سکتے ہیں۔