ایران کی عدلیہ نے اعلان کیا ہے کہ حکومت مخالف عوامی احتجاج کے سلسلے میں اب تک سزائے موت کا کوئی حکم جاری نہیں کیا گیا۔
العربیہ اردو کے مطابق عدلیہ کے ترجمان نے کہا کہ قانونی کارروائی کا عمل سخت اور طویل ہے جس میں مہینوں یا سال لگ سکتے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ احتجاج میں شامل کچھ لوگ کرائے کے کارندے ہیں جن کے تعلقات اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسی "موساد" اور امریکی ایجنسی "سی آئی اے" سے ہیں۔
ترجمان کے مطابق عدلیہ گمراہ ہونے والے مظاہرین اور اصل اشتعال انگیزی کرنے والوں کے درمیان فرق کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ سخت سزائیں صرف کافی ثبوتوں کی دستیابی کے بعد ہی دی جائیں گی۔
اسی تناظر میں ایرانی پراسیکیوٹر جنرل علی صالحی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ان بیانات کو مسترد کر دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران نے زیرِ حراست سینکڑوں مظاہرین کی سزائے موت پر عمل درآمد روک دیا ہے۔
علی صالحی نے کہا کہ مظاہروں کا جواب فیصلہ کن، عبرت ناک اور فوری ہوگا۔
یاد رہے کہ ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے ہفتے کو خطاب میں کہا تھا کہ ان واقعات کے ذمہ دار سزا سے نہیں بچ پائیں گے، ہم فسادیوں کی کمر توڑ دیں گے۔