کراچی کا پرانا نام کولاچی تھا، پھر آہستہ آہستہ روشنیوں کا شہر بنا اس کے بعد کچرے کی بھرمار کی وجہ سے کچراچی بنا اور اب دن رات بڑھتی ہوئی چوری اور ڈکیتیوں کے باعث بیچارا کراچی لاوارث کراچی کے نام سے مشہور ہو رہا ہے جہاں نا مال محفوظ اور نہ جان۔ وہ کراچی جو پورے ملک کو سبسے زیادہ کما کر دے رہا ہے وہی کراچی بیچارا خود اکیلا ہے، اس کو دیکھنے کے لئے، سننے اور سمجھنے کے لیے قانون کے رکھوالے اور مُلک کے رکھوالے آنکھ بند کرکے بیٹھے ہوئے ہیں۔
کراچی میں انرتھ ناظم آباد میں کل شام ساڑھے 7 بجے کے وقت ڈکیتوں نے فہیل سے موبائل بھی چھینا اور اس کو 3 گولیاں مار دیں جن کی وجہ سے وہ موقع پر ہی جان کی بازی ہار گیا۔ گھر والے غم سے نڈھال ہیں۔ جوان بچہ یوں صرف ایک موبائل کی وجہ سے دنیا سے چلا گیا ۔
آخر یہ ڈکیت کون ہیں؟ کہاں سے آتے ہیں؟ ان سے کوئی سوال پوچھنے والا ہے بھی یا نہیں؟ کب تک مائیں اپنے پیارے بچوں کی قربانیاں دیتی رہیں گی؟ کب تک مائیں بچوں کا انتظار کرتی رہیں گی؟ ہمارے حکمرانوں کو کب لاوارث کراچی کا خیال آئے گا یہ کوئی نہیں سمجھ رہا ۔