اونٹ کو دنیا کے سب سے قدیم ترین جانوروں میں شمار کیا جاتا ہے، ریگستان میں رہنے والے اس جانوری کو صحرائی جہاز بھی کہا جاتا ہے۔
کیونکہ اونٹ 40 میل فی گھنٹی کی رفتار سے سفر طے کر سکتا ہے، جبکہ اس کی آنکھ پر موجود جھلی اسے گرد و غبار سے بچاتی ہے۔
لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ اونٹ کی آنکھ سے نکلنے والے آنسو ادویات کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔
دی نیشنل نیوز نامی اماراتی جریدے کی جانب سے ایک خبر پبلش کی گئی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ اونٹ کی آنکھ سے نکلنے والے آنسو سے کس طرح انسان کو فائدہ پہنچایا جا سکتا ہے، اسی حوالے سے تحقیق کی جائے گی۔
اونٹ کے آنسو میں ایسے پروٹین بھی شامل ہو سکتے ہیں، جو کہ انسان کے لیے کارآمد ثابت ہو سکتے ہیں۔
یہ آنسو کچھ اس طرح نکلتے ہیں کہ جب اونٹ کو بیماری کی وجہ سے سانپ کھلایا جاتا ہے، اور سانپ کے زہر کی وجہ سے جو تکلیف ہوتی ہے، تو آنسو باہر آتے ہیں۔ ان آنسوؤں کو ایک باکس میں محفوظ بنایا جاتا ہے۔
جسے بعدازاں میڈیکل کی ٹیم کے سپرد کر دیا جاتا ہے، جبکہ اسے کاروبار کے طور پر بھی کیا جاتا ہو گا۔
لیکن جب اونٹ کو غصہ آتا ہے، تو پھر اسے سنبھالنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہو جاتا ہے، لیکن یہی اونٹ اس حد تک فرمانبردار ہے، کہ چھوٹے سے بچے کے ہاتھ میں رسی دے دی جائے تو اس کے پیچھے پیچھے چل دے گا۔