سوشل میڈیا پر مشہور شخصیات سے متعلق ایسی کئی معلومات موجود ہیں، جو کہ سب کو حیرت میں مبتلا کر دیتی ہیں۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو ڈاکٹر اسرار احمد کے آخری لمحات کے بارے میں بتائیں گے۔
ڈاکٹر اسرار احمد کا شمار پاکستان کے ان چند علماء میں ہوتا تھا، جو کہ جدید دور کے حوالے سے کافی دلچسپ رائے رکھتے تھے، اور جنہیں معلوم تھا کہ آگے آنے والا دور کس طرح کا ہوگا۔
سوشل میڈیا پر ڈاکٹر اسرار احمد کے پاکستان، مسلمانوں، اسلام، دنیا کے حوالے سے ایسے کئی بیانات موجود ہیں، جنہیں صارفین بے حد شوق سے دیکھتے ہیں۔
ڈاکٹر اسرار احمد کی موت سے متعلق ان کے فرزند کی جانب سے بتایا گیا تھا، جو کہ اب سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا۔
سوال کیا گیا تھا کہ ڈاکٹر اسرار احمد کے آخری ایام میں کیا صورتحال تھی، جس پر فرزند کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر صاحب کے امراض تو ساتھ چل ہی رہے تھے، تاہم آخری ایام میں انہیں بخار ہوا تھا۔
آخری ایام میں ان کا پیٹ خراب ہوا تھا، جس کے باعث انہیں کمزوری بھی ہو گئی تھی۔ ساتھ ہی ان کی کمر کی تکلیف بھی بڑھ گئی تھی۔
فرزند بتاتے ہیں کہ ان کے دوست اور ڈاکٹر عامر عزیز نے والد صاحب سے ملاقات کی، ڈاکٹر اسرار احمد کے انتقال کے بعد ڈاکٹر عامر نے بتایا کہ اُس دن جب میں ڈاکٹر صاحب سے مل رہا تھا، تو مجھے لگ رہا تھا کہ ڈاکٹر صاحب کے بعد بس ایک سے دو دن ہی باقی ہیں۔
ہو سکتا ہے کہ والد نے عامر عزیز سے کچھ ایسا کہا ہو، جس پر انہوں نے اندازہ لگا لیا ہو۔ اگرچہ ہم نے والد سے اسپتال چلنے کی بھی درخواست کی، جس پر والد نے منع کر دیا۔
موت کی رات جب بیٹے نے والد سے وداع لے کر گھر سے نکلے تو اس وقت ڈاکٹر صاحب کا خادم ان کے پاس موجود تھا، جو زمین پر ہی گدا ڈال کر سو جاتا تھا۔
اچانک 3 بجے کے قریب خادم کی کال آئی کہ آپ آجائیں مجھے حالات کچھ ٹھیک نہیں لگ رہے ہیں، جس میں نے دریافت کیا کہ تمہیں کیسے پتہ کہ حالات ٹھیک نہیں؟ خادم نے بتایا کہ عام طور پر ڈاکٹر صاحب خراٹے لیتے تھے، تاہم اب خراٹے بھی نہیں لے رہے ہیں۔
جس پر فرزند کو بھی تشویشی ہوئی اور وہ دوڑے چلے آئے، فرزند نے آنکھوں دیکھا حال بتایا کہ وہ علامات جو زندہ رہنے کا اشارہ کرتی ہیں، ظاہر نہیں ہو رہی تھیں، بلڈ پریشر بھی نہیں تھا، آنکھوں کی پُتلی بھی نہیں کام کر رہی تھی، یعنی نیند کی حالت میں ہی ڈاکٹر صاحب کو فرشتہ لینے آیا۔