"جب ہمارا بیٹا پیدا ہوا تو ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ وہ ایک خطرناک بیماری Autosomal Recessive Polycystic Kidney Disease میں مبتلا ہے جس کے بعد اس کے جسم سے گردے نکال دیے گئے تھے اور اسے تب تک ڈائیلائسز کروانا تھا جب تک کوئی اسے گردے عطیہ نہ کردے۔"
یہ کہنا ہے آرون روڈس کا جنھوں نے اپنے بیٹے کو ایک گردہ عطیہ کیا۔ لیکن کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی بلکہ کچھ سال بعد جب ان کی بیٹی پیدا ہوئی تو اسے بھی بھائی کی طرح ہی گردے اور جگر کا مرض لاحق تھا۔ اس بار ان کی اہلیہ وینیسا نے بیٹی کو اپنا ایک گردہ دیا اور اب یہ پورا خاندان صرف ایک ایک گردے پر زندہ ہے۔
بچوں کی صحت اب بہتر ہے
دونوں بچے چاننگ اور ایورلی اب کسی حد تک ایک عام. زندگی گزارنے کے قابل ہوگئے ہیں جس میں ان کے ماں باپ کی قربانی کا ہاتھ شامل ہے۔
ہم اپنے بچوں کی جان بچا کر خوش ہیں
آرون اور وینیسا کہتے ہیں کہ ہمیں ہر حال میں اپنے بچوں کی زندگی بچانی تھی۔ کسی بھی والدین کی طرح ہم اپنے بچوں کو تڑپتا نہیں دیکھ سکتے تھے اس لئے ہم سے جو ہوسکا وہ کیا۔ گردے عطیہ کرنا اچھی بات ہے۔ اگر آپ اپنا گردہ دے کر کسی کی جان بچا سکتے ہیں تو ایسا ضرور کرنا چاہیے۔ ہم خوش نصیب ہیں جو اپنے بچوں کی جان بچا سکے۔