سوشل میڈیا پر ایسی کئی معلومات ہیں، جو کہ سب کی دلچسپی اور حیرت کا باعث بن جاتی ہیں۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو ایک ایسی ہی ویڈیو کے بارے میں بتائیں گے۔
سوشل میڈیا پر دو بچوں کی ویڈیو کافی وائرل ہے، جو کہ اسکول یونیفارم میں ایک جگہ پر بیٹھے وقت بتا رہے ہیں۔ دونوں بچے بھائی ہیں اور اسکول جانے کے بجائے باہر بیٹھے ہیں۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ اسکول کیوں نہیں گئے اور باہر بیٹھ کر وقت کیوں ضائع کر رہے ہو؟ تو بڑے بھائی نے بتایا کہ ہمیں اسکول سے نکال دیا ہے، کیونکہ ہمارے ابو نے 3 ماہ کی فیس نہیں بھری تھی۔
جبکہ بڑے بھائی نے بتایا کہ والد پی آئی اے میں ملازم تھے، تاہم ان کی نوکری چھوٹ جانے کی بنا پر وہ اب گھر پر بیمار ہیں۔ دوسری جانب بیٹے نے ویڈیو بنانے والے سے یہ التجاء بھی کی کہ والد کو نہ بتانا کیونکہ وہ پریشان ہو جائیں گے۔
کیا ہی بے حس معاشرہ ہے، جہاں پرائیوٹ اسکول مالکان سماج میں اچھائی کا راگ تو کتابوں میں الاپتے ہیں، لیکن اس پر عملی اقدام اٹھانے سے قاصر ہیں۔
کیا ہی بے حس معاشرہ ہے، جہاں انسانیت کو سمجھے بغیر ہی اسے جھوٹا سمجھ کر نکال دیا جاتا ہے، اور کیا ہی بے حس معاشرہ ہے، جہاں طالب علموں کی اہمیت اور ان کے لیے خاص مواقع کا کوئی انتظام نہیں کیا جاتا ہے۔
ان بھائیوں کی ہمت اور حوصلے کو بھی سلام ہے، جو چھوٹی سی عمر میں ہی مرد بن چکے ہیں، جنہیں احساس ہے کہ والد کو اگر تنگ کیا تو مزید وہ پریشان ہو جائیں گے، اسی لیے گھر سے نکلتے اسکول جانے کے لیے ہی ہیں، تاہم اس کے بعد کہیں چھاؤں میں بیٹھ کر وقت بتاتے ہیں۔
تاکہ والد کو بھی یہ نہ لگے کہ فیس نہ بھرنے کی وجہ سے ان کے لخت جگروں کو اسکول سے نکال دیا ہے، ویڈیو سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہے، جبکہ اس حوالے سے مشہور اینکر اقرار الحسن نے بھی بچوں سے ملنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔
لیکن اس سب میں اسی بچے کی ایک ویڈیو اور وائرل ہوئی ہے جس میں اس بچے کا کہنا تھا کہ میرے والد پی آئی اے میں نہیں ہیں اور نہ ہی مجھے اسکول سے نکالا ہے، تاہم میرے دوست کے والد کے ساتھ یہی کچھ ہوا اور والد بھی پی آئی اے سے نکالے گئے۔
اسی لیے میں نے یہ ویڈیو بنائی ہے، تاکہ پی آئی اے دوست کے والد کو واپس رکھ لے، اگرچہ معاملہ دوسرا رُخ اختیار کر گیا ہے، تاہم دوست کے لیے دوست کی مدد قابل قدر بھی ہے اور اس بچے کے لیے بھی تکلیف دہ صورتحال ہے جو کہ اس وقت مشکل صورتحال سے دوچار ہے۔